اے پی ایس واقعے کی دوبارہ عدالتی تحقیقات کرائی جائے, جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان

پشاور: جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ نائن الیون واقعے کے بعد دنیا بھر میں مذہب غیر محفوظ ہوگیا تھا ،نائن الیون کے بعدمدارس کو دہشتگردوں کی آماجگاہ کہا گیا، ناموس رسالت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے شہدااے پی ایس کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اے پی ایس واقعے کی دوبارہ عدالتی تحقیقات کرائی جائے ،سربراہ جے یو آئی (ف)نے کہا کہ تمام غیراسلامی قوتیں مسلمانوں کیخلاف صف آرا ہوئی تھیں،انھوں نے صوبے کی تہذیب کو ختم کردیاہے،ان قوتوں سے ملک ،صوبے کوچھیننا ہے جو ہماری تہذیب پر حملہ آور ہیں،مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عمران خان کہتاہے شکرہے وفاق میں حکومت نہیں ملی،وفاق میں حکومت ملتی تو اس کا حال بھی خیبر پختونخوا جیسا ہوتا۔
سربراہ جے یو آئی (ف)نے کہا کہ ان کاخیال تھا مولویوں کوپیساملے گا،فضل الرحمان تنہارہ جائیں گے،علمااتنے بے غیرت نہیں کہ پیسوں کےلئے اپناایمان بیچیں،فضل الرحمان کا کہناتھا کہ یہ لوگ آپ کے روزگارکوبہترنہیں،آپ کے کردارکوتباہ کررہے ہیں،مدارس کےلئے سرکارکاپیسالیناعلما نے تباہ کن قراردیاہے


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.