پرویز مشرف کی میڈیا سے گفتگو

سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ ان کی دلی خواہش ہے کہ موجودہ حکومت جلد از جلد رخصت ہوجائے اور عبوری حکومت آئے جو ملک کو دوبارہ پٹڑی پر چڑھا سکے،حکومت کے ختم ہونے کے بعد تین یا چھ ماہ کے لیے عبوری حکومت آتی ہے تو اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا، اس وقت ملک میں ٹیکنوکریٹ حکومت ضروری ہے، اس وقت آئین سے زیادہ ملک کو بچانے اور جمہوری ترامیم کی ضرورت ہےبق صدر پرویز مشرف کا کہناحکومت کی نااہلی کے باعث ہی فوج مداخلت کرتی ہے اور جب آپ ملک کو تباہی کے راستے پر لے جا رہے ہو تو آپ کو کون چلنے دے گا، سپریم کورٹ اچھا کام کر رہی ہے اور اگر فوج کا بھی اس میں کردار ہے تو یہ اچھی بات ہے کیونکہ آج ہر پاکستانی پریشان ہے۔
سابق صدر کہتے ہیں کہ نواز شریف کبھی صادق اور امین نہیں رہے اور نواز شریف اور عمران خان کا اور ان کے کیسز کا موازنہ کرنا زیادتی ہے، عمران خان ایک دیانتدار شخص ہیں جن پر کوئی شک و شبہ نہیں کیا جاسکتا، تاہم اگر ہر چھوٹی بات کو دیکھا جائے تو پھر ہر آدمی بے ایمان ہے، جبکہ عمران خان جھوٹ نہیں بولتے۔ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ ریاست کا ایک اہم ستون ہے لیکن کسی ستون کا دوسرے سے تصادم نہیں ہونا چاہیے اور ہر ادارے کو اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ملک کے تمام سیاسی رہنماوں کو لوگوں کو اپنی جانب کھینچنے کی صلاحیت صرف عمران خان کے پاس ہے جسے ہم سب کو تسلیم کرنا چاہیے، لیکن ان کے پاس آنے کے بعد چند لوگوں کا ان سے نالاں ہوجانا ایک الگ بات ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.