طلال چوہدری ہسپتال سےغائب

لاہور: ن لیگ کے رہنما طلال چوہدری خاتون رکن اسمبلی کے بھائیوں کے مبینہ تشدد کے معاملے کی تحقیقات کیلئے آنیوالی فیصل آباد پولیس کی ٹیم کو بیان ریکارڈ کروائے بغیر ہی ہسپتال سےغائب ہوگئے ہیں۔

فیصل آباد سے آنیوالی تحقیقاتی کمیٹی کے انچارج اے ایس پی عبد الخالق نے بتایا کہ آج ہماری طلال چوہدری سے ملاقات نہیں ہوسکی۔ اسپتال کے عملے نے بتایا کہ انہیں ہسپتال سے چھٹی دے دی گئی ہے۔ پہنچنے پر پتا چلا کہ ایک گھنٹہ پہلے جا چکے ہیں۔ طلال چوہدری سے دوبارہ جلد رابطہ کیا جائیگا اور بیان لینے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ خاتون کا بیان بھی ریکارڈ نہیں کیا جا سکا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ طلال چوہدری پولیس کو بیان ریکارڈ کروائے بغیر ہی نجی ہسپتال سے چلے گئے۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ لیگی رہنما نے اپنا ایگزیکٹیو روم بھی خالی کر دیا۔
ن لیگ کی خاتون رکن اسمبلی کے بھائیوں کی جانب سے تشدد کے واقعے کی تحقیقات کیلئے فیصل آباد پولیس کی 4 رکنی تحقیقاتی ٹیم انچارج اے ایس پی عبدالخالق کی سبراہی میں طلال چوہدری کا بیان ریکارڈ کرنے کیلئے لاہور کے نجی ہسپتال پہنچی۔

پولیس حکام کے مطابق پولیس کو دونوں فریقوں کی طرف سے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی تاہم وقوعے کی رات طلال چوہدری کی جانب سے 15 پر موصول ہونےو الی کال پر پولیس نے بروقت کارروائی کی تھی۔ پولیس کے موقعے پر پہنچنے کے بعد طلال چوہدری لاہور کے نجی اسپتال میں داخل ہوگئے تھے۔ طلال چوہدری پر تشدد کے واقعے کے بعد پولیس نے دونوں فریقوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر کسی نے پولیس کے ساتھ تعاون نہیں کیا۔ اگر کسی کی طرف سے کارروائی کی درخواست نہ دی گئی تو پولیس کچھ نہیں کرسکتی۔

پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ کل بڑھکیں مارنے والے آج اسپتال سے بھاگ گئے۔ رسوائی اب طلال چودھری کے مقدرمیں ہے۔ طلال جانتے ہیں تحقیقات میں وہ خود پھنس جائیں گے۔ ن لیگی کی قیادت دونون پارٹیوں کودھمکا رہی ہے۔ قانون کےمطابق ون فائیوپرکوئی غلط کال آئی تو کال کرنے والوں کےخلاف کارروائی ہوگی۔ ن لیگ نے اب ایکشن نہ لیا تو طلال پھر کسی نہ کسی کو ہراساں کریں گے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.