دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور 4 ماہ قبل اسے ختم کردیا، سابق وزیر اعظم نوازشریف

سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے میرے خلاف فیصلے کے بعد پاکستان میں ترقی رک گئی ہے، جب میرے خلاف فیصلہ آیا تو اسٹاک انڈیکس54 ہزار تھا، آج 38 ہزار ہے، عدل کی تحریک کامیاب ہونے تک اس پر ڈٹے رہنا ہے۔ نواز شریف پر آج تک دس روپے کی کرپشن بھی ثابت نہیں ہوسکی۔

لاہور میں مسلم لیگ ن کے نواز شریف کا کہنا تھا کہ جلاوطنی سے واپس آیا تو پاکستان دہشت گردی کی زد میں تھا، پاکستان میں ہر جگہ دہشت گردی پھیلی ہوئی تھی، جلاوطنی سے واپس آیا تو بجلی کی قلت اتنی تھی کی 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ تھی۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور 4 ماہ قبل اسے ختم کردیا، میں نے لوڈشیڈنگ کا تماشا ختم کیا، بجلی کے بے حساب کارخانے لگادیے۔ آج بجلی طلب سے زیادہ ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ اگر کارکنوں کا یہی جذبہ رہاتو پتہ نہیں الیکشن میں کیا ہوگا، مخالفوں کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے، مسلم لیگ تاریخی کامیابی حاصل کرے گی۔

ن لیگی رہنما نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم عدل کی بحالی کا پرچم اٹھائیں، 2018 میں تم کلین بولڈ ہوجاؤ گے۔ 2018 میں تم سیاست سے باہر ہوجاؤ گے۔ تم الیکشن نہیں جیت سکتے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ آپ کو ہماری چار سالہ کارکردگی معلوم ہے، نوازشریف ہمیشہ مشکل کام کو ہاتھ ڈالتاہے اور اسے پورا کرتا ہے، شہبازشریف نے میرے کندھے سے کندھا ملاکر ساتھ دیا، ہم نے وہ منصوبے مکمل کیے جو بیس بیس سال مکمل نہیں ہوتے۔ ایک خاندان پر بےبنیاد الزامات پر کئی ریفرنس دائر ہوجاتے ہیں۔ جن کو نااہل ہونا چاہیے تھا وہ بچ گئے۔ بیٹے کی کمپنی سے تنخوا ہ نہ لینے پر نااہل کردیا جاتا ہے۔

اس سے قبل کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ہمارے مخالفین ن لیگ کی سوشل میڈیا فورس سے ڈرتے ہیں، اگر آئندہ ن لیگ کے کسی بھی سپورٹر کو ڈرایا دھمکایاجائے تو قائد ن لیگ سخت ایکشن لیں۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے کارکن جس نظریے کو لے کر چل رہے ہيں وہ نظریہ نوازشریف ہے، نظریہ نوازشریف کیا ہے؟ نظریہ نوازشریف یہ ہے کہ جمہوریت میں ملاوٹ نہیں ہوسکتی۔ جس کو عوام پلس کردیں اسے کوئی مائنس نہیں کرسکتا۔

مریم نواز نے کہا کہ جمہوریت میں کٹھ پتلیاں اور امپائر کی انگلیوں پر ناچنے والے نہیں ہوسکتے، نظریہ جمہوریت میں نظریہ ضرورت نہیں ہوسکتا، 20 کروڑ لوگوں کی رائے پر تین یا دو یا پانچ لوگ اپنا نظریہ مسلط نہیں کرسکتے، نظریہ نواز شریف یہ ہے کہ منتخب وزیراعظم کی عزت بھی ہونی چاہیے۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ نواز شریف پر مشکلیں اس لیے آئیں کہ انہوں نے آسان راستے پر صحیح راستے کو ترجیح دی۔ میاں صاحب سے زيادہ کون جانتاہے کہ غلط کو غلط کہنے کی قیمت کیا ہوتی ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.