Daily Taqat

سپریم کورٹ کا جنگلات اراضی کی تمام غیر قانونی لیز منسوخ کرنے کا حکم

سپریم کورٹ نے ملک بھر میں جنگلات کی اراضی کی تمام غیر قانونی لیز منسوخ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ سروے جنرل آف پاکستان چاروں صوبوں میں جنگلات کی حد بندی کر کے تین ہفتوں میں رپورٹ پیش کرے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ملک بھر میں جنگلات کی زمینیں لیز پر دینے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار نے استدعا کی کہ جنگلات کو محفوظ کیا جائے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت میں انکشاف کیا کہ ایک لاکھ 45 ہزار ایکڑ جنگلات کی اراضی پر غیر قانونی قبضہ ہے، ریونیو ڈیپارٹمنٹ نے اراضی ٹھیکے پر دی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کو تو اراضی دینے کا اختیار ہی نہیں ہے، صوبائی حکومت ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ معاملات طے کرے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ 70 ہزار ایکڑ مختلف لوگوں کو تقسیم کی گئی، آپ چیف سیکرٹری سندھ سے تفصیلات منگوا لیں، زمینیں بااثر لوگوں کے پاس ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ معاملہ صوبائی کابینہ کو بھجوا دیتے ہیں۔ لیکن اس معاملے میں تاخیر ہو جائے گی، کیونکہ قابضین اپنے جو ہوئے۔ عدالت نے حکم دیا کہ محکمہ جنگلات سندھ کی زمینیں صوبائی کابینہ واگزار کرائے۔

عدالت نے جنگلات اراضی کی تمام غیر قانونی لیز منسوخ کرنے اور سروے جنرل آف پاکستان چاروں صوبوں میں جنگلات کی حد بندی کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے تین ہفتوں میں عملدرآمد رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »