Daily Taqat

نیب حکام بلیک میل کرتے ہیں، سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف

مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ دشمن ملک بھارت کے ایجنٹ کلبھوشن کو اس کی فیملی سے ملاقات کی اجازت ملی،مگر مجھے اپنے اہل خانہ سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔لاہور کی احتساب عدالت میں آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل کی سماعت کے دوران شہباز شریف نے اپنی صفائی میں خود دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مجھے جھوٹے کیسز میں ملوث کیا گیا، نیب حکام بلیک میل کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے بلڈ کینسر ہے اور چیک اپ بھی نہیں کرایا جا رہا، مجھے اپنی فیملی سے ہفتہ وار ملاقات بھی کرنے نہیں دی جا رہی، میری ضرورت ہے کہ میں ڈاکٹر سے مکمل چیک اپ کراتا رہوں، میں موت کےمنہ سےواپس آیا۔شہبازشریف کا مزید کہنا ہے کہ اللہ بہت بڑا ہے، اس کی عدالت سب سے بڑی ہے،اسی نے مجھے صحت دی، میں نے صوبے کی خدمت کی ہے، اگر یہ جرم ہے تو میں کرتا رہوں گا۔اپوزیشن لیڈر نے یہ بھی کہا کہ میں نے ایک ہفتہ پہلے نیب سے درخواست کی کہ میراخون کا ٹیسٹ کرائیں، میں نے بار بار یاددہانی کرانی ہے، مجھے بتایا گیا کہ ہم نے اوپر بتا دیا ہے جب حکم آئے گا تو بتادیں گے۔علاوہ ازیں عدالت میں پیشی سے قبل نیب لاہور نے قائدحزبِ اختلاف محمدشہباز شریف کو قومی اسمبلی کےاجلاس میں شرکت کے لیے ان کی لاہور سے اسلام آباد منتقلی کےانتظامات کوحتمی شکل دے دی۔احتساب عدالت میں پیشی کے بعد انہیں اسلام آباد میں اجلاس میں شرکت کے لیے لے جایا جائے گا۔نیب ذرائع کے مطابق شہباز شریف کو لاہور سے اسلام آباد خصوصی طیارے یا پہلی دستیاب پرواز کے ذریعے لے جایا جائے گا،ان کے ساتھ نیب کے دو افسران بھی جائیں گے ۔قومی اسمبلی کا اجلاس ختم ہونے کےبعد شہباز شریف کو دوبارہ رات کو ہی واپس لاہور منتقل کئے جانے کا امکان ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »