زینب کا قاتل گرفتار، میرا بس چلے تو بھیڑئیے کو چوراہے پر لٹکادوں : شہباز شریف

لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے قصور کے معصوم کلی زینب کے قاتل کو گرفتارکرنے کا اعلان کردیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اگر میرا بس چلے تو بھیڑیئے کو چوک پر لٹکا کر پھانسی دی جائے لیکن ہم سب قانون کے تابع ہیں، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے کہیں گے کہ اس واقعے کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچائیں،ہوسکے تو ملزم کو سرعام پھانسی دی جائے جس کے لیے قانون میں تبدیلی کرنی پڑی تو وہ بھی کریں گے۔وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے رانا ثناءاللہ اور زینب کے والد محمد امین کے ہمرا ہ پریس کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے کہا زینب کا قاتل 24 سالہ محمد عمران قصور کا رہائشی اور ایک سیریل کلر ہے۔ زینب کے قاتل کی گرفتاری میں پنجاب فرانزک لیب، سول اور ملٹری انٹیلی جنس اور جے آئی ٹیم نے انتھک محنت کی جس پر یہ لوگ شاباش کے مستحق ہیں۔ دل کی گہرائیوں سے پنجاب کی کیبنٹ کمیٹی، وزرا اور آئی جی پنجاب سمیت دیگر اداروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے کیس کی پیروی کی۔ شہباز شریف کا مزید کہنا تھا زینب کو دنیا میں واپس تو نہیں لا سکتے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ زینب کے قاتل کی گرفتاری سے اس واقعے کا پہلا مرحلہ کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچا ہے۔یہ کیس انسداد دہشت گردی کی عدالت میں یہ کیس چلے گا اور اس میں بلا تاخیر تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے۔وزیر اعلیٰ پنجاب کا مزید کہناتھا کہ میرا بس چلے تو اس بھیڑیے کو بیچ چوراہے پر پھانسی دوں کیوں کہ قوم کی خواہش بھی یہی ہے کہ اس درندے کو سرعام پھانسی دی جائے یہ صرف زینب کا نہیں دیگر 7 بچیوں کا بھی قاتل ہے جنہیں قصور میں بے دردی سے زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا۔ ایسے حساس معاملات پر سیات نہیں کرنی چاہیے، چاہے وہ قصور کی زینب ہو یا مردان کی عاصمہ سب ہماری بیٹیاں ہیں۔درد دل کیساتھ خیبرپختونخوا کی حکومت کو درخواست کروں گا کہ ہم مردان واقعہ پر پنجاب فرانزک کے ذریعے ڈی این اے کے لیے مدد کرنے کے لیے تیار ہیں، جو بھی مدد چاہیے ہو گی ہم خیبرپختونخوا حکومت کی مدد کریں گے۔ انہوں نے ملزم کو پہلے چھوڑنےکی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ پہلے عمران سے صرف تفتیش ہو رہی تھی، تفتیش کے دوران ملزم عمران نے دل کی بیماری کا بہانہ بنایا تھا، ڈی این اے ٹیسٹ کے دوران ملزم قابو آ گیا۔پریس کانفرنس میں بریفنگ دیتے ہوئے فرانزک لیب کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ محمد عمران کا ڈی این اے سیمپل 20 جنوری کو موصول ہوا جس کے نمونے چیک کیے گئے۔ اگر پنجاب فرانزک سائنس لیب نہ ہوتی تو مجرم نہ پکرا جاتا۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کی آبادی تقریباً 7 ارب ہے اور ہر شخص کا ڈی این اے دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، محمد عمران کے ڈی این اے ٹیسٹ سے ثابت ہوا ہے کہ اسی نے یہ جرم کیا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.