اے پی سی طاہرالقادری کا سیاسی ایجنڈا، ن لیگ کے خوف سے تمام سیاسی جماعتیں اکٹھی ہو رہی ہیں , رانا ثنا اللہ

وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ اے پی سی ڈاکٹر طاہرالقادری کا سیاسی ایجنڈا ہے، نواز شریف اور ن لیگ کے خوف سے تمام سیاسی جماعتیں اکٹھی ہو رہی ہیں ، سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے شہدا کیلئے امدادی رقم کے سلسلے میں خرم نواز گنڈا پور سے ملاقاتیں ہوئیں جبکہ ذاتی طور پر ان کے گھر بھی گیا۔عوامی تحریک کی طرف سے بلائی گئی اے پی سی پراپنے رد عمل میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اے پی سی طاہرالقادری کا سیاسی ایجنڈا ہے، مسلم لیگ ن کے خوف سے یہ سب اکٹھے ہو کر بیٹھے ہیں، میاں نواز شریف نے اس ملک کی خدمت کی اور اسے ایٹمی قوت بنایا ، 2018 کا الیکشن پرو میاں نواز شریف اور اینٹی میاں نواز شریف ہونے جا رہا ہے جس کی وجہ سے یہ تمام قوتیں جمع ہورہی ہیں۔
مسلم لیگ ن کی قیادت کی سعودی عرب روانگی کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کوئی بھی دوست ملک ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتا ۔ سعودی عرب میں مسلم امہ کے معاملات پر گفتگو کی جا رہی ہے یہ ایسی چیزیں ہیں جنہیں میڈیا پر ڈسکس نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کسی بھی این آر او کی تردید کردی اور کہا کہ این آر او اگر ہو رہا ہے تو کس کے ساتھ ہو رہا ہے اور دوسرا فریق کہاں ہے، جب پہلے گارنٹی دی گئی تو ایک فریق حکومت پاکستان اور دوسرا فریق میاں نواز شریف تھے لیکن اگر اب کوئی اس قسم کا معاملہ ہے تو دوسرا فریق کون ہے اور کدھر ہے؟۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے امداد کے طور پر سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے شہدا کیلئے 10 کروڑ روپے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد انہوں نے مزید رقم کا تقاضہ کیا ، خرم نواز گنڈا پور سے تین چار ملاقاتیں بھی ہوئیں اور میں ذاتی طور پر ان کے گھر گیا تھا، وہ اب میری بات کی تردید کرتے ہیں، اگر یہ معاملہ نہیں تھا تو کیا پھر میں ان کے گھر پر لڈو یا تاش کھیلنے گیا تھا.


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.