ملکہ ترنم نور جہاں کو ہم سے بچھڑے 17برس ہو گئے

چھ ستمبر 1965 کا دن پاکستانی تاریخ میں ایک اہم دن ہے۔ اس دن بھارت نے پاکستانی سرحدوں پر حملہ کیا تو افواج پاکستان کے ساتھ ساتھ ہر پاکستان بھی بھارت سے لڑنے کو تیار ہو گیا۔ جہاں پاک فوج نے ارض پاک کا دفاع کیا تو وہیں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے بڑھ چڑھ کر میدان میں آگئے۔ ایسے میں شبعہ موسیقی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ریڈیو پاکستان کا رخ کیا۔ جس میں سب سے نمایاں نام ملکہ ترنم میڈم نور جہاں کا تھا۔ 23 ستمبر 2017 کو سروں کی ملکہ میڈم نورجہاں کو اپنے مداعوں سے بچھڑے سترہ برس ہو جائیں گے۔ اسی سلسلے میں آج میرا ریڈیو پاکستان جانا ہوا تو میڈم کے ملی نغموں اور ترانوں کے پروڈیوسر محمد اعظم خاں سے ایسی دلچسپ ملاقات ہوئِی جس نے مجھے ماضی کے اس دور میں پہنچا دیا۔

اعظم خان صاحب کے مطابق 8 ستمبر 1965 کے دن لاہور ریڈیو اسٹیشن میں ایک خاتون کی فون کال موصول ہوئی جو بولیں! میں نور جہاں بات کر رہی ہوں اور میں ابھی ترانے ریکارڈ کروانا چاہتی ہوں۔ اس وقت کے اسٹیشن ڈاریکڑ شمس الدین بٹ نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا کہ کوئی رانگ نمبر تھا۔ کچھ دیر بعد فون کی گھنٹی دوبارہ بجی تو میڈم کے پاس بیٹھےمعروف موسیقار حسن لطیف صاحب بولے! میڈم نور جہاں ہی بات کر رہی ہیں تو بٹ صاحب نے کہا کہ آپ ریڈیو تشریف لے آئیں۔ ہمارے اسٹیشن ڈائریکٹر نے مجھے بلا کر تمام گانے پروڈیوس کرنے کی ذمہ داری سونپ دی۔ میڈم کے ریڈیوپاکستان پہنچنے پر میں نے معروف شاعر صوفی تبسم صاحب سے التجا کی کہ ہمیں گانا لکھ دیں تو انہوں نے اپنے کمرے میں چائے کا کپ اور سگریٹ کا پیک منگوالیا اور دو گھںٹے میں پہلا گانا “میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں راکھاں” جسے سلیم اقبال نے کمپوز کیا ۔

گیت نشر ہونے کے بعد اسے قوم کے ہر فرد نے دل سے محسوس کیا اور اپنے ملک کے فوجی جوانوں کی سلامتی کے لیے دعائیں کیں۔ حب الوطنی کے جذبے سے سرشار بہت سے لوگ لاہور کے واہگہ بارڈر پر پاک فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے پہنچ گٰئے۔ نور جہاں کے گاٗئے ہوئے ترانوں اور ملی نغموں نے افواج پاکستان اور قوم میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا کر دیا تھا۔ جنگ کے دنوں میں ریڈیو پاکستان کی طرف سے روزانہ کی بنیاد پر ترانے بنانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا اورچند ہی دنوں میں تقریبا دس سے بارہ گیت ریکارڈ کیے گئے۔

جب ریڈیو کے اسٹاف تک خبر پہنچی کہ ہمارے کچھ فوجی جوان شہید ہوئے گئے ہیں تو صوفی تبسم صاحب نے” اےپتر ہٹاں تے نئیں وکدے” لکھا۔ جسے میڈم نور جہاں نے بہت جذبے سے گایا اور یہ گیت نشر ہونے کے بعد نورجہاں سمیت اسٹوڈیو میں موجود تمام اسٹاف کی آنکھیں پرنم ہوگئیں ۔ ریڈیو پاکستان کی براڈ کاسٹنگ بلڈنگ کے اطراف میں جب بھی جنگی سائرن بجائے جاتے تو میڈیم محفوظ مقام پر جانے کے بجائے یہ کہہ کر ہمارا حوصلہ بڑھا دیتی کہ ہمارا کام ہی ہماری جنگ ہے ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، اسی ریکاڈنگ روم میں اپنے ملک کے لیے جان قربان کریں گے۔ ملکہ ترنم نے ملک کے بہادر سپوتوں کے لیے خصوصی ملی نغمے گا کر ان کا میدان جنگ 65 کی جنگ میں استعمال ہونے والا اسٹوڈیو اور مائیک آج بھی بیسنمٹ کے ریکاڈنگ روم میں موجود ہیں ۔اب اس اسٹوڈیو کو کلاسیکل میوزک ریسرچ سیل کے طور استعمال کیا جا رہا ہے۔ نور جہاں سے جڑی یادیں ، تصاویر اوراسٹوڈیو میں پڑا سامان ریڈیو پاکستان کا اثاثہ ہیں


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.