مال روڈ پر طاہرالقادری کے دھرنے سے پہلے پنجاب حکومت نے خط لکھ کروارننگ جاری کردی

پاکستان عوامی تحریک نے حکومت کیخلاف 17جنوری سے احتجاج اور دھرنے کااعلان کررکھا ہے جس میں دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی ان کاساتھ دے رہی ہیں تاہم ضلعی انتظامیہ نے مال روڈ پر دھرنے کی اجازت دینے کی درخواست کردی اور اب ڈپٹی کمشنر نے دھرنے کا ساتھ دینے والی جماعتوں کے نمائندوں کوبھی واضح پیغام دیدیا۔ 13جنوری کو مال روڈ پر احتجاج کی اجازت کیلئے دائردرخواست کے جواب میں پی ٹی آئی کے شعیب صدیقی، پیپلزپارٹی کے میاں عزیزالرحمان ، مسلم لیگ ق کے کامل علی آغا، عوامی تحریک کے جواد حامد ، متحدہ مجلس عمل اور عوامی مسلم لیگ کے نمائندے کو تحریری طورپر آگاہ کیا ہے کہ لاہور میں دہشتگردی کے خطرات کی وجہ سے کھلے مقام پر عوامی اجتماع کی اجازت نہیں دی جاسکتی ، اس کے علاوہ لاہور ہائیکورٹ کے احکامات کے تحت صوبائی حکومت نے بھی مال روڈ پر دھرنوں، ریلی اور عوامی اجتماع کیخلاف دفعہ 144نافذ کررکھاہے ۔ ڈپٹی کمشنر کی طرف سے بتایاکہ حالیہ خطرات کی وجہ سے احتجاج کی اجازت نہیں جاسکتی اور مذکورہ مقامات پر احتجاج نہ صرف توہین عدالت ہوگی بلکہ دفعہ 144کی بھی خلاف ورزی ہوگی اور احتجاج کی انتظامیہ خلاف ورزی کی ذمہ دار ہوگی، اگر پھر بھی آپ لوگوں نے احتجاج کیا تو کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کے اکلوتے ذمہ دار ہوں گے تاہم فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیلئے درج ذیل انتظامات ہونے چاہیں ۔ پبلک پراپرٹی کو کسی بھی قسم کے نقصان کے ذمہ دارآرگنائزر ز ہوں گے ، انتظامیہ اپنے کارکنان کی ایک کمیٹی بناکر تعینات کرے جو کارکنان میں نظم و ضبط برقراررکھے اور چھوٹے بچوں کو ریلی میں نہ آنے دیں۔ مظاہرین کی ایک فہرست ضلعی پولیس کے سپر د کریں اور انتظامیہ اس چیز کو یقینی بنائے کہ فہرست کے علاوہ کوئی دوسرا شخص اس علاقے تک نہ پہنچے ، اگرکوئی ایساشخص پہنچ آیا تواس کی ذمہ دار احتجاجی انتظامیہ ہوگی ۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ کاروبار کو زبردستی بند کرائیں اور نہ ہی کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کے دفاتر کے باہر نعرہ بازی ہوگی، پاکستان کی مسلح افواج، آئینی عہدیداروں اور عدلیہ کیخلاف کوئی تقریر نہیں کرنے دیاجائے گااور نہ ہی کسی کو آتشبازی کی اجازت دی جائے گی ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.