اگر دھرنوں کی روایت شروع ہو گئی تو ہر چند ماہ بعد دھرنا ہو گا ،سابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار

ٹیکسلا: سابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار کہتے ہیں  کہ اگر ہم پاکستان کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں دھرنوں کے چیپٹر کو ختم کرنا ہوگا۔  ورنہ یہ ملک ”بنانا ری پبلک “بن جائے گا ،کسی بھی ملک  کے مذہب میں ایسا نہیں ہوتا کہ چند لوگ طاقت کے ساتھ اپنے مطالبات منوالیں ایسا صرف افرقی ممالک اور افغانستا ن جیسے ممالک میں ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میرے گھر کے باہر دھرنے والوں نے کچھ نہیں کیا بلکہ یہ شر پسند عناصر کی کارروائی تھی ۔
اپنے گھر پر فائرنگ کے حوالے سے زیر گردش قیاس آرائیوں پر ان کا کہنا تھاکہ پرتشدد کارروائی سے ہفتہ پہلے میں اس گھر کوچھوڑ کر اسلام آباد آگیا تھا کیونکہ میرے بچوں کو سکول جانے میں مشکلات کا سامنا تھا اور جب میں باہر نکلتا تھا تو لوگوں کو کافی مشکل برداشت کرنی پڑتی تھی ۔ان کا کہنا تھا کہ دھرنے کے دوسرے روز میرے گھر کے باہر چند علما کھڑے ہو گئے جو لوگوں کو وہاں کھڑا ہونے سے روک روہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ان سے ہمارا کوئی جھگڑا نہیں ہے ،میر ے گھر کے باہر شر پسندوں نے کام کیا اس کا تعلق دھرنے والوں سے بالکل نہیں ہے ۔
ٹیکسلا میں انہوں نے  گفتگو کرتے ہوئے حکومت کو کہا تھا کہ اگر دھرنوں کی روایت شروع ہو گئی تو ہر چند ماہ بعد دھرنا ہو گا ،ہر کوئی چند سو لوگوں کا جتھہ لے کراسلام آباد آئے گا اور مطالبات منوائے گا ،عمران خان اور طاہر القادری کے دھرنے میں بھی وزارت داخلہ نے اجازت نہیں دی تھی بلکہ حکومت نے اجازت دی تھی ۔انہوں نے کہا کہ اگست2014میں عمران خان اور طاہرالقادری نے حکومت کی اجازت سے ریڈزون میں داخل ہوئے تو 30اگست کو پارلیمنٹ اور وزیراعظم ہاوس کا کنٹرول سنبھالنے کی تاریخ دے دی ،اس دھرنے کو اسی اسلام آباد پولیس اور ایف سی نے ایسا کام کرنے سے روکا لیکن صرف ایک فرق تھا کہ اس وقت کا وزیر داخلہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ اسی جگہ پر موجودتھا جہاں ڈنڈے چل رہے تھے اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جا رہی تھی ۔ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ پولیس اس قابل نہیں کہ دھرنوں پر قابو پائے تو انہیں یاد کر ا دوں کہ انتظامیہ کے ساتھ کھڑے ہونا پڑتا ہے ،پولیس اور ایف سی میں دھرنوں کو روکنے کی صلاحیت موجود ہے ۔انہوں نے بتا یا کہ 2016میں جب لیاقت آباد میں چہلم ہوا اور اس کے بعد لوگ اچانک اسلام آباد داخل ہو گئے تو وزارت داخلہ نے دو دن میں معاملات خوش اسلوبی کے ساتھ طے کر لیے ،میں نے ایک واضح ہدایت کر رکھی تھی کہ کسی صورت بھی فیض آباد انٹر چینج پر کسی کو قبضہ نہیںکرنے دینا کیونکہ یہاں پر قبضہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی سیل کرنے کے برابر ہے ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.