Daily Taqat

وزیراعظم کا چیئرمین نیب کو پارلیمان طلب کرنا خوش آئند ہے، نواز شریف

سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) کو پارلیمان میں طلب کرنے کی بات خوش آئند ہے۔ وفاقی دارالحکومت کی

احتساب عدالت کے باہر نواز شریف کا کہنا تھا کہ نیب آرڈیننس ایک ’ٹیلر میڈ‘ قانون ہے۔ جو مشرف کے مکروہ عزائم کو پورا کرنے کے لیے بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نیب کا قانون ایک آمر کا قانون ہے لیکن ابھی بھی وقت ہے کہ ہم جلدی سے فیصلے کرلیں تو ہم اس سے بچ سکتے ہیں۔ ہمارے لیے یہ چیزیں توجہ کی مستحق تھیں لیکن ہماری ترجیح ڈیولپمنٹ تھی۔ نواز شریف نے کہا کہ نیب کیسز میں کچھ ہوتا تو پہلے 10 دن میں سامنے آجاتا۔ لیکن ہمارے خلاف ٹرائل کی مدت میں تب تک توسیع ہوتی رہے گی، جب تک کوئی ثبوت نہیں گڑ لیے جاتے اور اگر یہی صورتحال رہی تو یہ کیسز ساری زندگی چلتے رہیں گے۔ بریت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ اللہ نہ کرے کہ ہماری قسمت عمران خان جیسی ہو۔ سابق وزیراعظم نے منی لانڈرنگ سے متعلق پریس ریلیز پر سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ٹائی ٹینک ڈوبنے کی اصل وجہ سامنے آگئی ہے اور نواز شریف کو نوٹس جاری ہونے کا امکان ہے‘۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو لوگ پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ہیں، ان میں سے کئی لوگوں کو میں نہیں پہچانتا۔ جبکہ گزشتہ 5 سال میں خسرو بختیار نے جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے مجھ سے کوئی بات نہیں کی تھی۔ خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی کے بعد دیگر سینئر سیاست دانوں کے ساتھ مل کر جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کی بنیاد رکھنے والے اراکین نے معاہدہ طے پانے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔ نواز شریف کی جانب سے کہا گیا کہ یہ صرف چہرے ہیں، جو تحریک اںصاف میں شامل ہوئے ہیں۔ اصل عوام تو ہمارے ساتھ ہیں۔ عمران خان کے جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عمران خان کی شخصیت کا دہرا معیار واضح ہے اور وہ جو بات جہاں اپنے حق میں لگے وہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوجرانوالہ سے رانا نذیر کے پارٹی چھوڑنے سے متعلق کافی وقت سے سن رہا ہوں، اور رانا نذیر کے بیٹے نے پارٹی صدارت سے متعلق ترمیم کے لیے (ن) لیگ کو ووٹ نہیں دیا۔ نواز شریف سے جب پوچھا گیا کہ آپ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کو علیحدہ صوبہ بنانے کے حق میں ہیں یا خیبرپختوںوا میں ضم کرنے کے؟ تو اس پر نواز شریف کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف پر نیب کی جانب سے منی لانڈرنگ کے الزام پر بھرپور جواب دینے کا فیصلہ کیا گیا اور اس سلسلے میں پنجاب ہاؤس میں 10 مئی کو پریس کانفرس کرنے کا بھی امکان ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »