Daily Taqat

عمران خان پاکستان کے وزیراعظم بنے تو یہ پاکستان کی بدقسمتی ہو گی : مولانافضل الرحمان

مولانافضل الرحمان کا کہنا ہے کہ 5سال پہلے تو کسی کو صوبہ یادنہیں آیا، آج اچانک کیوں آواز بلند ہوگئی،عمران خان کا وزیراعظم بننا پاکستان کی بدقسمتی ہوگی ۔

ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام ( ف ) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے حکمران ڈلیور نہیں کر سکے اور عوام کی کوئی حیثیت نہیں، ملک میں عدلیہ کا مارشل لاء لگا دینا چاہیے، میں کہتا ہوں ایک سال مارشل لاء لگا کر عوام کی خدمت کریں اور پھر الیکشن لڑیں عوام انہیں ووٹ نہیں دے گی ۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میڈیا پر حکمرانوں کی اچھائیاں چھپائی جاتی ہیں اور برائیاں دکھائی جاتی ہیں، جو یہ سب کرواتے ہیں ہم ان مکار دوستوں کے شر سے پناہ مانگتے ہیں، انصاف کی کرسیوں پر بیٹھنے والے خدا کے لئے انصاف فراہم کریں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اگر پاکستان کے وزیراعظم بنے تو یہ پاکستان کی بدقسمتی ہو گی، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی جماعت کا لاہور کے مینار پاکستان پر 13 مئی کا جلسہ ملکی انتخابی تاریخ کو بدل دے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ متحدہ مجلس عمل کا تجربہ پہلی بار نہیں ہے، متحدہ مجلس عمل پہلے بھی کامیاب رہی ہے، ایم ۔ ایم ۔ اے جب نہیں رہی تو اس کا کون ذمہ دار ہے اس پر بحث اب نقصان کا باعث ہے، آنکھوں ہی آنکھوں میں شکوہ کرنا بہتر ہے، ہماری جماعت آئندہ الیکشن ایم ۔ ایم ۔ اے کے نام پر کتاب کے نشان کے ساتھ لڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت نے پہلے روز سے ہی بہاولپور اور سرائیکی صوبہ کی حمایت کی ہے، جو لوگ اب اس کی حمایت کر رہے ہیں انہیں 5 سال قبل کیوں یاد نہ آیا، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فاٹا اصلاحات پر مجھ سے نہیں وہاں کی عوام سے پوچھا جائے ہم چاہتے ہیں وہاں ترقی ہو ۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فاٹا کے بارے وزیراعظم کی تقریر سے تشویش پیدا ہوئی ، مجھے اس پر تحفظات ہیں، اپنے مستقبل کا فیصلہ فاٹا کی عوام کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف میرے دوست ہیں، میری جماعت 1988ء سے غلام گردشوں میں گھوم رہی ہے، نوبزداہ نصر اللہ کہتے تھے کہ ہم ذاتی تعلقات میں قدامت پرست ہیں، ہم یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان خارجہ پالیسی کے حوالے سے مشکلات میں گھرا ہوا ہے، پاکستان اب کسی داخلی بحران کا متحمل نہیں ہے ، ہم اداروں اور فوج کا احترام کرتے ہیں، عمران خان سے الحاق کرنے سے قبل ہمیں اسرائیل کو تسلیم کرنا ہوگا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »