وزیر اعظم کو اقامے پر نکال دیا جاتا ہے اور جو شخص اعتراف کرتا ہے اسے چھوڑ دیا جاتا ہے، سابق وزیراعظم نواز شریف

لندن: سابق وزیراعظم نواز شریف کہتے ہیں کہ قانون اور آئین کی حکمرانی کے لیے جو قیمت اداکرنا پڑی کروں گا، نیازی سروسزکااعتراف عمران خان خود کرچکے ہیں،آپ ان کے ویڈیوز بیان دیکھ سکتے ہیں ،لیکن ان کی صفائی بینچ نےپیش کر رہا ہے،بینچ نے میرے خلاف عمران خان کا کیس لڑا۔ فیصلے نے ہماری بات سچ ثابت کر دی جو فیصلہ گزشتہ روز آیا وہ خود اپنے منہ سے بول رہاہے،28جولائی کے بعد ہماری کہی ایک ایک بات سچ ثابت ہو رہی ہے۔لندن سے لاہور روانگی سے قبل  سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ’’وزیر اعظم کو اقامے پر نکال دیا جاتا ہے اور جو شخص اعتراف کرتا ہے اسے چھوڑ دیا جاتا ہےانہوں نے کہا کہ ’’ہمارے لیے انصاف کے تقاضے کچھ اور ان کے لیے کچھ، ایسا اب نہیں چلے گا، اس دہرے معیارکے خلاف ملک گیر تحریک چلائیں گے، انصاف کے دوترازونہیں چلیں گےمجھے کہا گیا کہ میں نے تنخواہ نہیں لی،لاکھوں پاؤنڈز کے کاروبار کو یہ اثاثہ نہیں کہہ رہے لیکن میری خیالی تنخواہ کو انھوں نے اثاثہ مان لیا،پہلےہی کہہ دیاتھا عمران ، جہانگیر ترین کے مقدموں میں مجھے ہی نااہل کیاجائیگانوازشریف گزشتہ کئی روز سے لندن میں مقیم ہیں جہاں ان کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کا علاج جاری ہے۔اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نیب ریفرنسز کی سماعت کے سلسلے میں نوازشریف کو حاضری سے ایک ہفتے کے لیے استثنیٰ بھی دیا تھا جس کے بعد وہ لندن روانہ ہوگئے تھے۔ میاں نوازشریف آج(اتوار) لاہور پہنچ جائیں گے۔ذرائع کے مطابق میاں نوازشریف کے ساتھ ان کی صاحبزادی مریم نواز بھی پاکستان آئیں گے۔واضح رہےکہ شریف خاندان کے خلاف احتساب عدالت میں نیب ریفرنسز زیر سماعت ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.