Daily Taqat

آسیہ کیس کا فیصلہ آئین کے مطابق ہوا، پاکستان کا کوئی قانون قرآن و سنہ کے خلاف نہیں، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان قوم سے خطاب کر رہیں ہیں۔

وزیراعظم نے اپنے بیان کا آغاز اللہ کے نام سے کیا، اور کہا کہ میں اپنی قوم کے پاس صرف اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ ایک سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا اور اس فیصلے کا ایک چھوٹے سے طبقے نے جو ردِعمل دیا اور اس فیصلے پر جو زبان استعمال کی، میں مجبور ہوں اس حوالے سے بات کرنے کیلئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دنیا کی تاریخ میں وہ واحد ملک ہے جو مدینہ کی ریاست کے بعد اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے۔ اسلام کے نام پر بننے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کا کوئی قانون قرآن و سنہ کے خلاف نہیں ہے۔ تو جو ججز نے فیصلہ دیا ہے وہ آئین کے مطابق دیا ہے، اور پاکستان کا آئین قرآن و سنہ کے تابع ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اب جس طرح کی زبان استعمال کی گئی ہے پاکستان کے سپریم کورٹ کے ججز کے اوپر کہ یہ کہنا کہ وہ فیصلے کے بعد واجب القتل ہیں، اور پھر وہیں نہیں رکنا، پھر یہ کہنا کہ پاکستان کے جو آرمی چیف ہیں وہ غیر مسلم ہیں اور جنرلز کو کہا جا رہا ہے اور فوج کو کہا جا رہا ہے کہ آرمی چیف کے خلاف بغاوت کرہ

وزیراعظم نے کہا کہ پہلے میں اپنی حکومت کی بات کرتا ہوں، “میں بار بار یہ کہ چکا ہوں کہ پاکستان انشاءاللہ جب ایک عظیم ریاست بنے گا تو مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر چل کے بنے گا”۔ انہوں نے کہا کہ میرا یہ ایمان کا حصہ ہے کہ جب تک ہم جس مقصد کیلئے پاکستان بنا تھا، اسلامی فلاحی ریاست اگر ہم وہ نہیں بنائیں گے تو پاکستان کا کوئی مقصد نہیں ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ انسان کا ایمان مکمل ہی نہیں، جب تک انسان نبی ﷺ سے عشق نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عملی طور پر اس حکومت میں وہ کام کیا ہے جو آج تک کبھی کسی نے نہیں کیا ہے، اور نہ ہی کسی پاکستان کی حکومت نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ڈچ پارلیمنٹیرین تھا، اس نے ہمارے نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی، اور وہ خاکے نکالے، تو واحد دنیا میں مسلمان ہمارا ملک تھا جس نے ان سے کمپلین کیا، وزارت داخلہ سے بات کی، ان کے سفیر سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ انہوں ڈچ پارلیمنٹیرین سے وہ خاکے منسوخ کرائے۔ یہ دنیا کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے پہلی دفع اسلامی ممالک کی تنظیم کے سامنے مسلہ کھڑا کیا، اور پہلی دفع ہمارے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ میں یہ مسلہ اٹھایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یورپ کی کورٹ آف ہیومن رائٹس نے یہ فیصلہ کیا کہ نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کرنا آزادیِ رائے نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم صرف باتیں نہیں کرتے، ہم نے عملی طور پر یہ کر کے دکھایا ہے کہ ہم اپنے نبی ﷺ کی شان میں کسی قسم کی گستاخی برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کو اس سب کے بات جو زبان استعمال کی گئی ہے میں ان سے سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس طرح کون سی حکومت چل سکتی ہے؟ ایسا کس ملک میں ہوتا ہے کہ کوئی شخص کہہ دے کہ ججز کو بھی قتل کر دہ اور آرمی چیف کو بھی قتل کردو، لوگوں کو بھی سڑکوں پر نکالے، سڑکیں بھی بند کر دے۔ عمران خان نے کہا کہ اس حکومت کا کیا قصور ہے اس میں ، تو کونسی حکومت ایسے چل سکتی ہے؟

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی کافی مشکل معاشی و مالی بحران سے گزر رہا ہے۔  انہوں نے کہا کہ میں اور میری کابینہ نے ابھی تک ایک چھٹی بھی نہیں کی، ہم مسلسل اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ اپنی قوم کو اس معاشی بحران سے نکالیں، اور غربت کی چکی میں پسنے والے طبقے کیلئے حالات بہتر کریں۔ انہوں نے کہا کہ جو ہم دوست ممالک سے اور دیگر ممالک سے بات چیت کر رہیں ہیں کہ یہاں سرمایہ کاری کریں، اس کا مقصد یہی ہے کہ ہمارے ملک میں بےروزگاری ختم ہو۔

وزیراعظم نے کہا کہ اب اگر ملک میں اس طرح کی حرکتیں کرنی ہیں مطلب اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ پسند نہیں آیا یا کہنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے ان کے مطابق فیصلہ نہ دیا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ فیصلہ ہی نہیں مانتے، اس کا مطلب سڑکوں پر آ جائے گے، سڑکیں بند کردیں گے، ملک بند کردیں گے، اس طرح کوئی ملک نہیں چل سکتا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس سب کا نقصان پاکستان کو ہے، ہماری عوام کو ہے اور سب سے زیادہ ہمارے غریب طبقے کو ہے۔ سڑکیں بند کرنے سے لوگوں کا روزگار جارہا ہے، جو غریب بندہ دیہاڑی پر جارہا تھا جس نے مزدوری کرنا تھی، جب ملک ہی رک جائے گا تو وہ کہا سے کھائے گا، وہ کیسے اپنے بچوں کا پیٹ پالے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں آج اپنی عوام سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کسی صورت آپ نے ان کو اپنے آپ کو اُکسانے نہیں دینا، اس طرح سے کوئی اسلام کی خدمت نہیں ہورہی، یہ ملک سے دشمنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک عناصر ایسی باتیں کرتے ہیں کہ ملک کو بند کردہ، ججز کو قتل کردہ اور فوج میں بغاوت ہوجائے۔ اس فوج نے ہمیں بہت مشکلوں سے اس دہشت گردی کی جنگ سے نکالا ہے، ہماری افواج نے قربانیاں دی ہوئیں ہیں۔ اور آپ جب کہیں گے کہ فوج آرمی چیف کے خلاف بغاوت کردے وہ بھی جھوٹ بول کے کہ وہ مسلمان نہیں ہے۔ تو اس سب میں نقصان پاکستان کو ہے اور اس میں فائدہ صرف پاکستان کے دشمنوں کا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ جو اپنی سیاست چمکانے کیلئے عوام کو اکسا رہے ہیں، آپ نے ان کی باتوں میں نہیں آنا ہے، یہ اسلام کی خدمت نہیں ہے یہ صرف اپنی ووٹ بینک بڑھا رہے ہیں۔  وزیراعظم نے کہا کہ میں ان عناصر کو اپیل کرتا ہوں کے ریاست سے نہ ٹکرانا، میں صرف اس ملک کی خاطر جو کہ مشکل بحران سے نکل رہا ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ آگے اچھا وقت آرہا ہے، آپ  اپنی سیاست کیلئے اور اپنے ووٹ بینک کیلئے اس ملک کو نقصان نہ پہنچائیں۔ اگر آپ یہ کریں گے تو میں آپ کو واضح کردوں کہ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے گی، لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کرے گی، ہم کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہونے دیں گے،  کوئی ٹریفک نہیں رکے گی۔

وزیراعظم نے آخر میں کہا کہ میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کو ریاست کو ادھر تک نہ لے کے جائیں کو وہ مجبور ہو جائے ایکشن لینے کو،

پاکستان پائندہ آباد


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »