Daily Taqat

جانتا ہوں ملک اس وقت مشکل دور سے گزر رہا ہے، جلد حالات پر قابو پالیں گے، وزیراعظم

ہم سابق حکومتوں کے نقصانات کو پورا کررہے ہیں، سابقہ ادوار میں عوام کو بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا گیا

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ عوام کو خوشخبری سناتا ہوں، سعودی عرب سے زبردست پیکج ملا ہے۔ پہلے دباؤ تھا آئی ایم ایف سے زیادہ قرضہ لیں، اب ئی ایم ایف سے زیادہ قرض نہیں لیناپڑے گا۔ وزیراعظم نے سعودی عرب سے بڑا پیکج ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب آئی ایم ایف کے پاس جانے سے عوام پر بوجھ کم ہو جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب جیسے پیکج کے لیے مزید دو ممالک سے بات ہو رہی ہے۔ امید ہے تنخواہ دار طبقے پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالیں گے۔ ہم انشا اللہ اپنی عوام پر زیاہ بوجھ نہیں ڈالیں گے، مجھے عوام کی مشکلات کا احساس ہے۔

وزیرِاعظم عمران خان کا قوم سے اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ ہم پر اقتدار سنبھالتے ہی قرضوں کا بوجھ پڑ گیا، جس کا ہم پر بہت دباؤ تھا۔ ہم نے قرضوں کی قسطیں ادا کرنا تھیں، اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے ہم کوشش کر رہے تھے کہ دوست ممالک سے قرض لیں، لیکن اب آئی ایم ایف کی ضرورت کم ہوگی، انشا اللہ آئندہ دنوں میں قوم کو مزید خوشخبریاں سناؤں گا۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ اگر سعودی عرب سے یہ پیکج نہ ملتا تو ہمیں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس جانا پڑتا، آئی ایم ایف سے زیادہ قرض لیتے تو اس کا بوجھ عوام پر ہوتا۔

گزشتہ قرضوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 1971 میں پاکستان کا کل قرضہ 30 ارب تھا جو 2008 تک 6 ہزار ارب تک پہنچ گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ 2008 سے اب تک حکومت پر 30 ہزار ارب کا قرضہ ہو گیا ہے، ہم سابق حکومتوں کے لیے ہوئے قرضے اتار رہے ہیں۔ آج پاکستان پر بجلی کا سرکلر ڈیٹ 1200 ارب روپے ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ن لیگ کی حکومت 1200 ارب روپے کا قرضہ چھوڑ کر گئی ہے، ن لیگ کی حکومت 40 ارب روپے ویلفیئر فنڈ کا قرضہ اور اسٹیل مل کے ورکز کا پیسہ کھا گئی۔ انھوں نے کہا کہ یہ لوگ اپنی کرپشن بچانے کے لئے سڑکوں پر احتجاج کے لئے آرہے ہیں، پیسہ نہ ہونے کے باوجود پنجاب حکومت 57 ارب روپے کے چیک جاری کرگئی، اب یہ لوگ دباؤ ڈال رہے ہیں تا کہ ان کو این آر او مل جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ان لوگوں کو پتہ ہے کہ یہ لوگ کیا کر کے گئے ہیں، انہیں پتہ ہے کہ جب 30 ہزار ارب روپے کا آڈٹ ہو گا تو اُن کی کرپشن سامنے آئے گی۔

وزیرِاعظم نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تو ہم سابق حکومتوں کے نقصانات کو پورا کر رہے ہیں۔ آج گردشی قرضہ 1200 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، سابق حکومتیں ورکرز کا ویلفیر فنڈز اور سٹیل ملز ملازمین کے پیسے کھا گئیں، دس سالوں میں انہوں نے جو کچھ کیا اور آج جمہوریت بچانے کھڑے ہو گئے ہیں۔ دونوں جماعتوں کو ایسی باتیں کرتے ہوئے شرم نہیں آ رہی۔ دونوں جماعتوں نے دس سال ملک میں حکمرانی کی اور عوام کو بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی کوشش ہے کہ ہم پر دباؤ ڈال کر ہم سے این آر او لے لیں، لیکن میں ان پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ سارے کان کھول کر سن لیں ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ میں کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑوں گا، اپوزیشن جو مرضی کر لے احتساب ہو کر رہے گا۔

انہوں نے دورہ سعودی عرب کے حوالے سے اہم بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم کوشش کر رہے تھے کہ یمن لڑائی میں ثالث کا کردار ادا کریں، ہم کوشش کریں گے کہ مسلمان ممالک کو اکٹھا کریں، ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک میں لڑائی ختم ہو جائے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »