خواجہ سراوں کے خلاف تشدد پرایکشن لینے پرغور

پشاور: خواجہ سرا پورے پاکستان میں محفوظ نہیں ہیں لیکن خیبرپختونخوامیں خواجہ سراﺅں پرتشدد اور حملے روزمرہ کا معمول ہیں۔

خواجہ سراﺅں کے مطابق ان کے ساتھ کیے جانے والے   FIR ایف آئی آرکی شرح 10 فیصد سے بھی کم ہے۔خواجہ سراﺅں کے خلاف تشدد کے خلاف ڈیٹا بیس کو موئثر ، قابل اعتماد اور آسان بنانے کے لیے پشاور کی سماجی تنظیم بلیووینز نے خواجہ سراﺅں پر تشدد کو دستاویز کرنے کے لیے ایک انٹرنٹ اپلیکیشن ”ٹرانس محافظ “ کے نام سے متعارف کروائی ہے جسکے ذریعہ خواجہ سراءاپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو تنظیم کے ڈیٹا بیس اور دیگر قابل اعتماد ساتھیوں کے ساتھ بانٹ سکیں گے۔

اس اپلیکیشن کے ذریعے نہ صرف منتخب افراد کو سکیورٹی الرٹ بھیجا جا سکتا ہے بلکہ آواز اور ویڈیوکے ذریعے بھی پیغام بھیجا جا سکتا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.