چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کے واقعہ سنانے پر سیاستدان بھی شرم سے پانی پانی ہو گئے

لاہور : چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے پاکستان بار کونسل سے خطاب کے دوران سیاسی مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے ایک ایسا واقعہ سنا دیا کہ سیاستدان بھی شرم سے پانی پانی ہو جائیں گے۔

انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی گند صارف ہونے کے مراحل سے ذرا باہر نکل جائیں تو مائی بھاگاں، غلام رسول، دین محمد اور رحمت اللہ کا کیس سننے کا موقع بھی مل جائے تو بیچارے تین مرلے کی اپنی چھوٹی کی کٹڑی کو حویلی سمجھتے ہیں۔
اس مائی کا مقدمہ سننے کی بھی توفیق ملے جو بڑے عرصے سے اپنی وراثت کیلئے لڑتی رہی کیونکہ اس کا شوہر بہت اراضی چھوڑ گیا تھا۔ وہ مائی سنی خاوند کی بیوہ اور بے اولاد تھی لیکن خاوند کے بھتیجوں نے اپنے ہی چچا کو شیعہ قرار دیدیا۔ اب شیعہ قانون میں بیوہ کو وراثت میں اراضی وغیرہ نہیں ملتی۔
شیعہ کیوں ڈکلیئر کیا؟ اس لئے کہ جی اس کی نماز جنازہ شیعہ طریقہ سے پڑھوائی تھی، اس لئے کہ وہ فلاں مولوی کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا تھا، اس لئے کہ اس نے کسی وقت میں کربلا کو چندہ دیا تھا، اس لئے وہ شیعہ تھا۔

مائی آٹھ مربع کی زمین کا مقدمہ لڑتی رہی، نیچے بھی ہار گئی، پھر اوپر بھی ہار گئی، پھر اوپر بھی ہار گئی اور جب سپریم کورٹ میں آئی تو وہ مائی اندھی ہو چکی تھی۔ میں نے کہا کہ یار تین کورٹس کا فیصلہ ہے، اسے کچھ دے دو، مجھے یاد ہے کہ نور محمد وکیل تھے جن کا مال روڈ پر دفتر ہے۔ وہ کہنے لگے کہ دو لاکھ روپے دے دیتے ہیں اور جب میں نے پتہ کروایا تو انکشاف ہوا کہ اس کی زمین کے ایک مربع کی قیمت ڈھائی سے تین کروڑ روپے تھی۔“


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.