پولیس میں چھپی کالی بھیڑوں کوسامنے لائیں گے، وزیرداخلہ سندھ انورسیال

کراچی : سندھ  کے وزیر داخلہ انور سیا ل کہتے ہیں کہ اگر پولیس ہی اپنے شہریوں پر فائرنگ کرے تو عوام کا اس پر بھروسہ نہیں رہتا ہم انتظار کے واقعے سے ایک ایسی مثال بنائیں گیں کہ آئندہ کوئی بھی ایسا نہیں کر سکے
نجی چینل میں گفتگوکرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال کا کہنا تھا کہ
دنیا میں کہیں بھی ملزم پر سیدھی فائرنگ کرنے کی اجازت نہیں ہوتی، آپ تب تک فائرنگ نہیں کر سکتے جب تک ملزم مسلح نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ساوتھ کے علاقے میں چوری اور رہزنی کی وارداتوں میں اضافے کی وجہ سے وہاں سول کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ سیدھی فائرنگ کر دی جائے۔
سہیل انور سیال نے انتظار کے والدین کو انصاف کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ کیس کا ایک ملزم مفرور ہے جس کی تلاش جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس میں چھپی کالی بھیڑوں کو سامنے لائیں گے اور ڈیفنس واقعے کو مثال بنائیں گے تاکہ آئندہ کوئی بھی پولیس اہلکار ایسی حرکت کرنے سے پہلے ایک مرتبہ نہیں 100 مرتبہ سوچے۔
ایم کیو ایم لندن کے مقتول ڈپٹی کنوینر پروفیسر حسن ظفر کی ہلاکت کے معاملے پر بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ سہیل انور سیال کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر پروفیسرحسن ظفر کی ہلاکت کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
سہیل انور سیال کا کہنا تھا کہ سلطان خواجہ کی سربراہی میں حسن ظفر کیس کی تفتیش کے لیے کمیٹی بنائی ہے اور سلطان خواجہ کا نام اچھی شہرت کے حامل افسران میں ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سلطان خواجہ کی سربراہی میں کمیٹی اسی لیے بنائی ہے کہ اس معاملے پر صرف خانہ کاغذی نہیں مکمل اور شفاف انکوائری چاہتے ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.