پولیس کو جعلی مقابلوں میں بندے مارنے کا لائسنس مل گیا 10 سال تک ایک بھی اہلکار کو سزا نہیں دی گئی

لاہور:  اب یہ بھی دور آگیا ہے کہ پولیس نے جعلی اور جھوٹے مقابلوں میں بندے مارنے والے ملازمین کو تحفظ فراہم کرنا شروع کر دیاہے۔ 10برسوں کے دوران مقابلوں میں ملوث ایک بھی اہلکار کو قید کی سزا نہ ہوسکی جبکہ پولیس کے بدنام زمانہ ملازمین مقابلوں کی لت کو پورا کرنے کے لئے تعزیرات پاکستان کی دفعات 324,100,97,96,34 اور 353 کے علاوہ انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ 7 کا سہارا لینے لگے ہیں۔ رواں سال کے دوران صوبائی دارالحکومت میں 23سے زائد پولیس مقابلوں میں 40 سے زائد افراد کو ماورائے عدالت ہلاک کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مقامی پولیس، جعلی مقابلوں کے حوالے سے واضح حکمت عملی ترتیب نہیں دے سکی۔ جس کے باعث آئے روز شہر میں پولیس مقابلوں کی گونج سنائی دیتی رہی اور کم و بیش ہر مقابلے میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کے باعث میڈیا شور مچاتا نظر آتا ہے لیکن پولیس حکام ان خبروں کی بجائے مقابلے کرنے والے ملازمین کی رپٹس اور رپورٹس کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، رواں سال صرف لاہور میں 23سے زائد پولیس مقابلوں میں 40سے زائد افراد کو ماورائے عدالت ہلاک کیا گیا لیکن کسی ایک بھی پولیس مقابلے کو حقیقی مقابلے کی سند جاری نہ ہونے کے باوجود پولیس حکام، ان مقابلوں میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 10 برسوں کے دوران ایک بھی پولیس اہلکار کو قید کی سزا نہیں ہوسکی حالانکہ پاکستانی آئین اور پاکستان میں رائج تعزیرات فوجداری قوانین تعزیرات پاکستان، انسداد دہشتگردی ایکٹ اور دیگر کوئی بھی قانون ملک میں جعلی پولیس مقابلوں کی اجازت نہیں دیتا۔

یہ بھی انکشاف کیا جا رہا ہے کہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34ایک سے زائد جرائم پیشہ افراد اور حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کو بیان کرتی ہے۔ دفعہ 96 ذاتی دفاع اور حفاظت خود اختیاری کا ذکر کرتی ہے۔ دفعہ 97 بھی حفاظت خود اختیاری کے حوالے سے انسانی دفاع کو بیان کرتی ہے۔ دفعہ 100 جرائم پیشہ شخص کے حملے کی صورت اس قتل کرنے کی اجازت دیتی ہے، جعلی مقابلوں کے شوقین پولیس ملازمین ان دفعات کا سہارا لے کر ملزمان کو ہلاک کردیتے ہیں اور موقف اختیار کرتے ہیں کہ ملزم یا ملزمان نے پولیس پر حملہ کردیا تھا جس پر پولیس کو مجبوراً حفاظت خود اختیاری کے تحت ملزم یا ملزمان کو ہلاک کرنا پڑا۔ اسی طرح اگر کسی جگہ ملزم کسی پولیس ملازم کو زخمی کردے یا پولیس ملازم از خود اپنے آپ کو زخمی کرنے کے بعد فعہ 324 کے تحت بھی پولیس مقابلوں سے نہیں کتراتے اور دفعہ 353 کے تحت کسی سرکاری ملازم پر حملہ ظاہر کرکے بھی ملزمان کو جعلی پولیس مقابلوں میں ہلاک کیا جاتا ہے اور جعلی پولیس مقابلوں میں ملزمان کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے خلاف انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997ءکی دفعہ 7 کا اضافہ بھی کرنے سے نہیں چوکتے جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ملزمان نے پولیس سے مقابلہ کرکے علاقے میں دہشت بھی پھیلائی ہے۔ رواں سال شہر میں مبینہ پولیس مقابلے سرفہرست رہے شادمان کے علاقہ میں 25جولائی کی رات ہونے والا پولیس مقابلہ جس میں چار افراد کو ہلاک کیا گیا۔

واحد خان جو بہاولنگر کا رہائشی تھا جبکہ شرافت علی جو کہ ننکانہ صاحب کا رہائشی تھا۔ محمد اشرف جو قینچی چونگی امرسدھو کا رہائشی تھا جبکہ دوسرا غضنفر خان سرگودھا کا رہائشی تھا۔ اسی طرح سبزہ زار پولیس کی زیر حراست 7 سالہ بچی سے زیادتی کا ملزم رضوان مبینہ مقابلے میں ہلاک کیا۔ پولیس کے مطابق ملزم رضوان کو نشاندہی کیلئے لیجایاجارہا تھا کہ اس نے پولیس اہلکار سے رائفل چھیننے کی کوشش کی اور چھینا جھپٹی کے دوران اچانک گولی چل گئی جو ملزم کے سینے میں جالگی جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ اسی طرح نواب ٹاﺅن میں مبینہ پولیس مقابلے میں 4 ڈاکو ہلاک جبکہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگیا۔ پولیس نے ناکے پر گاڑی روکنے کا اشارہ کیا تو گاڑی میں سوار افراد نے گاڑی بھگادی اور پولیس پر فائرنگ کردی جس پر جوابی کارروائی میں 4 ڈاکو مارے گئے اور ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگیا۔ ڈیفنس بی کے علاقے ایکس بلاک میں مبینہ پولیس مقابلہ ہوا، جس میں پولیس کی فائرنگ سے دو ڈاکو مارے گئے


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.