راؤ انوار کے 2011 سے 2018 کے دوران پولیس مقابلوں کی تفصیلات منظرعام پر آگئی

کراچی: کپڑوں کے تاجر نقیب اللہ کے قتل کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں پولیس مقابلے کو جعلی قرار دیدیا جب کہ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ راو انوار نے 745 پولیس مقابلے کئے جن میں 444 افراد کو قتل کیاسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نقیب اللہ قتل از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی جس میں انکوائری کمیٹی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی ثناءاللہ عباسی کی رپورٹ پیش کردی گئی۔
رپورٹ کے مطابق تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ بادی النظر میں پولیس مقابلہ جعلی تھا، نقیب اللہ کو 3 جنوری 2018 کو ابوالحسن اصفہانی روڈ پر چائے کے ہوٹل سے دو دوستوں کیساتھ حراست میں لیا گیا۔ نقیب اللہ، حضرت علی اور قاسم کو اٹھانے کے بعد انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، حضرت علی اور قاسم کو 6 جنوری کو چھوڑ دیا گیا، تاہم نقیب اللہ کو رہا نہیں کیا گیا بلکہ ایک مقام سے دوسرے مقام منتقل کیا جاتا رہا، 13 جنوری کو نقیب اللہ کو طے شدہ مقابلے میں قتل کردیا گیا۔
علاوہ ازیں 2011 سے 2018 کے دوران راؤ انوار کے پولیس مقابلوں کی تفصیلات بھی سامنے آگئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق راؤانوار نے 7 سال میں 745 پولیس مقابلے کئے۔ ان میں سے 192 مقابلوں میں 444 ملزمان کو ہلاک کیا جبکہ 89 ملزمان کی گرفتاری ظاہر کی گئی۔ 553 مقابلوں میں کوئی ملزم ہلاک یا گرفتار نہیں ہوا۔ سب سے زیادہ 195 پولیس مقابلے 2012 میں ہوئے جبکہ 2014 میں 186 مقابلوں میں 152 ملزمان ہلاک ہوئے اور گزشتہ برس 93مقابلوں میں 110ملزمان ہلاک ہوئے۔
نقیب اللہ سمیت 4 نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے کے الزام میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤانوار کو اپنی پوری پولیس پارٹی سمیت معطل کردیا گیا ہے جس کے بعد سے وہ روپوش ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.