زیادتی کےمجرموں کوسرعام پھانسی دیناچاہیے، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ خواتین اور بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو سر عام پھانسی دینی چاہیے یا پھر انہیں جنسی صلاحیت سے ہی محروم کردینا چاہیے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ موٹر وے پر زیادتی کے واقعے نے پوری قوم کو ہلا دیا ہے۔ اس واقعے میں ملوث ایک ملزم ماضی میں گینگ ریپ میں ملوث رہ چکا ہے، اس طرح کے لوگوں سے نمٹنے کیلئے تازہ قانون سازی کی ضرورت ہے، میرے خیال میں تو انہیں چوک پر لٹکانا چاہیے۔ وہ حکومت میں آئے تھے تو ملک میں بڑھتے ہوئے جنسی جرائم کے تناظر میں وہ سرِعام پھانسی کے حق میں تھے تاہم انہیں مشورہ دیا گیا کہ ایسا کرنے سے عالمی ردعمل ہوسکتا ہے۔ میرے خیال میں قتل کی طرح قانون میں جنسی جرائم کی بھی درجہ بندی ہونی چاہیے اور زیادتی کے مجرموں کو جنسی طور پر ناکارہ بنا دیا جانا چاہیے۔

عمران خان نے کہا کہ اقتدار سنبھالا تو آئی جیز کی بریفنگ سے حیران ہوا کہ زیادتی کے کئی کیسز تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ معاشرے میں فحاشی بڑھے تو اس طرح کے جرائم بڑھتے ہیں، جس سے خاندانی نظام تباہ ہو جاتا ہے۔ زیادتی کرنیوالے جیل سے باہر آ کر پھر وہی کام کرتے ہیں، ایسے ملزمان پولیس کے پاس رجسٹرڈ ہونے چاہییں اور ان کی نگرانی کی جانی چاہیے، واقعے میں ملوث عابد علی جرائم پیشہ گینگ کا سرغنہ تھا جو کئی سال سے وارداتیں کر رہا تھا اگر اسے 2013 میں سخت سزا دی جاتی تو شاید موٹروے والا افسوس ناک واقعہ نہ ہوتا۔

ملک میں کورونا کی صورت حال سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت نے کورونا کے معاملے پر وہی غلطی کی جو ہماری سیاسی جماعتیں مجھے کرنے کا کہہ رہی تھیں، جب کورونا وائرس شروع ہوا تو ابتدائی 2 ماہ کے دوران اپوزیشن مجھے مسلسل کہا کہ یورپ اور چین کی طرح مکمل لاک ڈاؤن کیا جائے جب کہ میرا یہ موقف تھا کہ ہمارا ایک بڑا طبقہ دیہاڑی دار ہے جو صبح کماتے ہیں تو ان کے گھر میں شام میں چولہا جلتا ہے، بڑے شہروں میں بڑے پیمانے پر کچھی آبادیاں ہیں اگر ہم یورپ جیسا لاک ڈاؤن کرتے ہیں تو ان کا کیا ہو گا۔

ہم نے بہت جلدی فیصلہ کیا کہ سخت لاک ڈاؤن نہیں کریں گے، ہم نے زراعت کھول دی، تعمیراتی صنعت کھول دی، پھر ہم نے ڈیٹا اکٹھا کر کے ہاٹ اسپاٹس دیکھے اور اسمارٹ لاک ڈاؤن کرتے ہوئے ہاٹ اسپاٹس کو بند کرنے کی کوشش کی اور اس کی بدولت ہم قابو پانے میں کامیاب رہے لیکن سردیوں میں کورونا کی ایک اور لہر آ سکتی ہے لہٰذا ابھی بھی ہمیں احتیاط کرنی ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی کاکردگی اور ان کی تبدیلی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیر اعظم نے کہا کہ عثمان بزدارکی صرف ایک کمزوری ہے کہ میڈیا پر خود کو پروموٹ نہیں کرسکے ، وہ شہباز شریف کی طرح اربوں روپے خرچ نہیں کرتے، پی ٹی آئی میں بھی کچھ لوگ وزیراعلیٰ بننا چاہتے ہیں وہ عثمان بزدار کو کم سمجھتے ہیں۔

آئی جی پنجاب کی تبدیلی اور سی سی پی او لاہور کی تعیناتی سے متعلق وزیر اعظم نے کہا کہ کوئی گارنٹی نہیں کہ موجودہ آئی جی پنجاب بھی چل پائیں گے، وہ کارکردگی دکھائیں گے تب ہی رہیں گے۔

اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق وزیر اعظم نے کہا کہ ہرملک کی اپنی خارجہ پالیسی اور اپنے مفادات ہوتے ہیں، اسرائیل کو پوری دنیا تسلیم کرلے لیکن جب تک فلسطینی خود اسے تسلیم نہیں کرتے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.