خالی پلاٹوں پر 100فیصد سپر سٹرکچر ٹیکس کا نفاذ,حکومت پنجاب سے جواب طلب

لاہور:لاہور ہائیکورٹ نے شہری اور دیہی علاقوں میں موجود خالی پلاٹوں پر 100 فیصدسپر سٹرکچر ٹیکس کے نفاذ کے نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دینے کے لئے دائر درخواست پر حکومت پنجاب سے جواب طلب کر لیاہے۔جسٹس محمد فرخ عرفان خان نے کیس کی سماعت کی،درخواست گزاروں کے وکیل ساجد بشیر شیخ نے موقف اختیار کیا کہ قوانین کے تحت شہری زمینوں پر پانچ فیصد جبکہ دیہی زمینوں پر تین فیصد سٹامپ ڈیوٹی ہی عائد کی جا سکتی ہے،محکمہ بورڈ آف ریونیو نے گذشتہ ماہ ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے پنجاب بھر میں موجود شہری اور دیہی بندوبستی علاقوں میں موجود پلاٹوں کی تفریق ختم کر دی، اس نوٹیفیکیشن کے تحت پلاٹوں پر سٹامپ ڈیوٹی کے علاوہ 100 فیصد سپر سٹرکچر ٹیکس بھی عائد کر دیا گیا،سپر سٹرکچر ٹیکس کا نفاذ آئین پاکستان، سٹیمپ ایکٹ اور رجسٹریشن ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی ہے، آئین اور قوانین کے تحت شہری اور دیہی علاقوں کی درجہ بندی ختم نہیں کی جا سکتی جبکہ ایک ٹیکس کی موجودگی میں ماورائے قانون دوسرا ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا، انہوں نے استدعا کی کہ عدالتی فیصلہ آنے تک نوٹیفیکیشن کو معطل کیا جائے، عدالت نے حکومت پنجاب اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیاہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.