نقیب اللہ بے گناہ اور ایک امن پسند نوجوان تھا:مقتول کےوالدکا بیان

کراچی میں جعلی پولیس مقابلے میں قتل ہونے والے نقیب اللہ محسود کو انصاف دلانے کیلئے اس وقت پوری قوم کھڑی ہو چکی ہے جبکہ مقتول نقیب کے والد بھی اپنے بے گناہ بیٹے کے ناحق قتل پر آواز بلند کرنے پر پوری قوم کے شکر گزار ہیں،نقیب اللہ محسود کے والد  کا کہناہے کہ راؤ انوار کے ہاتھوں قتل ہونے والا ان کا بیٹا بے گناہ اور ایک امن پسند نوجوان تھا ،نقیب کی اپنے علاقے میں تعینات فوجیوں سے دوستی بھی تھی اور  وہ ہمیشہ جب بھی وہاں آتا تو علاقے میں موجود  فوجی اہلکاروں سے ہاتھ بھی ملاتا تھا۔
نقیب اللہ کے والد کا کہناتھا کہ ایک دن نقیب اللہ نے اپنے بیٹے کے فوجیوں کی طرح بال کٹوا دیئے تو میں نے اپنی بہو سے پوچھا کہ یہ کس طرح کے بال کٹوا دیئے ہیں؟میرے  اس سوال پر  آگے سے نقیب اللہ بول پڑ ا اور کہنے لگا کہ وہ اپنے بیٹے کو فوج میں کیپٹن بنائےگا اور اسے جنرل بھی بنائے گا ،نقیب فوج سے بہت محبت کرتا تھا۔خاتون اینکر رابعہ انعم نے نقیب اللہ کے والد سے سوال کیا کہ آپ نقیب اللہ محسود کو فیشن کرنے سے منع نہیں کرتے تھے؟اس کے جواب میں نقیب اللہ کے والد کا کہناتھا کہ نقیب بالکل ہی الگ لڑکا تھا ، میں نے اس سے کہا کہ فیشن کیوں کرتے ہو اتنے؟ تو آگے سے وہ کہنے لگا کہ میں ماڈلنگ کے ذریعے امن کا پیغام دینا چاہتاہوں،اپنے سٹائل سے تعلیم اور امن کو فروغ دوں گا ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.