پاکستان بیت المقدس پرٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کوتسلیم نہیں کرتا: قومی سلامتی کمیٹی

قومی سلامتی کمیٹی نے بیت المقدس پر ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کو یکسر مسترد کردیا ہے جبکہ امریکی فیصلے کے لئے پاکستان کی کوششیں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، کمیٹی نے نیشنل ایکشن پلان پر اطمینان کا اظہار کیا اور قومی سلامتی کے مشیر ناصرجنجوعہ کوقوی سلامتی پالیسی کوحتمی شکل دینے کی ذمہ داری دی ۔
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں وزیرداخلہ احسن اقبال اورمشیرقومی سلامتی ناصرجنجوعہ ، آرمی چیف،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی شریک ہوئے ، پاک بحریہ اور پاک فصائیہ کے سربراہان نے بھی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کے اختتام قومی سلامتی کمیٹی نے اعلامیہ جاری کردیا جس میں کوئٹہ چرچ پرحملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے چرچ پرحملہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کے خلاف قرار دیا ۔ اجلاس کے دوران سیکریٹری خارجہ نے او آئی سی اجلاس کے حوالے سے شرکاع کو بریفنگ دی۔کمیٹی نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے پرمسلم امہ کو تشویش ہے، ٹرمپ انتظامیہ کے یکطرفہ فیصلے پاکستان کو قابل قبول نہیں۔ اجلاس کے دوران شرکاءنے کہا کہ امریکی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے اقدامات کرے۔پاکستان امریکی فیصلے کی واپسی کی لئے کوششیں جاری رکھے گا اور مسئلہ فلسطین کے حل کی لئے امریکاپردباو ڈالتارہے گا۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتحال پربھی غورکیا گیااور پاکستان کے خلیجی ممالک اورایران کیساتھ تعلقات پربھی غور کیا گیااس موقع پر نیشنل ایکشن پلان پر سیکریٹری داخلہ نے بریفنگ دی جس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمد میں موثر پیش رفت ہوئی ہے۔کمیٹی نے ہدایت دی ہے کہ نیشنل سیکیورٹی پالیسی کو تمام اسٹیک ہولڈرز کی مدد سے جلد ازجلد حتمی شکل دی جائے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.