انتظامیہ کے ہر معاملے میں ہماری مداخلت مناسب نہیں: چیف جسٹس کے ریمارکس

سپریم کورٹ میں اسلام آباد کے سرکاری ہسپتالوں میں سہولتوں کی فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ کے ہر معاملے میں ہماری مداخلت مناسب نہیں۔
اس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ عدالتی مداخلت کے بغیر معاملات درست نہیں ہوں گے،پمزمیں ایڈہاک تقرریاں کی گئیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے استفسار کیا کہ عارضی تقرریاں کیوں کی جارہی ہیں؟،سیکرٹری کیڈ نے بتایا کہ قوانین کی عدم موجودگی پرعارضی تقرریاں کی جارہی ہیں۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ روز کہتے ہیں حکومت یہ نہیں کررہی وہ نہیں کررہی،متعلقہ سیکریٹریز کو بلا کر ابھی پوچھ لیتے ہیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سرکارہرتاریخ پر 15 دن کا وقت لیتی ہے،ہمیں آج ہی مسئلے کا حل چاہئے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ مہنگی آکسیجن خریدنے والے کودوبارہ عہدے پربٹھا دیا گیا،اب کسی سے رعایت نہیں برتیں گے،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کچھ دیر کیلئے ملتوی کردی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.