لاہور مال روڈ پر اپوزیشن جماعتوں کےاحتجاجی جلسے کا آغاز

لاہور کے مال روڈ پر پاکستان عوامی تحریک اور اپوزیشن جماعتوں کااحتجاجی جلسہ شروع ہوگیا۔ آصف زرداری اورعمران خان ایک ہی اسٹیج سے مختلف سیشنز میں خطاب کریں گے جبکہ طاہر القادری جلسہ میں لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی زیر قیادت متحدہ اپوزیشن کا احتجاج آج مال روڈ لاہورپر ہورہا ہےجس میں شرکت کے لیے بڑی تعداد میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ رہنماؤں کا انتظار کیا جارہا ہے ۔انتظامیہ کی جانب سے احتجاجی جلسے کے لیے دوپہر 12 بجے کا وقت دیا گیا تھا تاہم تین گھنٹے کی تاخیر کے باوجود اس کا ابھی تک باقاعدہ طور پر آغاز نہیں کیا جا سکا ہے۔گزشتہ روز لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علامہ طاہر القادری کا کہنا تھا کہ حالات کےمطابق طے کریں گے کہ احتجاج کتنے روز تک جاری رکھیں، ویسے بنیادی طور پر انہیں ایک دن کا احتجاج کرنا ہے۔ان کاکہنا تھا کہ ایک ہی اسٹیج ہوگا جہاں سے سب خطاب کریں گے، اس احتجاج میں سب برابر کے میزبان ہیں اور یہ حکومت کو اپوزیشن کا مشترکہ پیغام جا رہا ہے۔احتجاج کے باعث مال روڈ سے ملحقہ سڑکوں پر ٹریفک کا شدید دباؤ دیکھا جارہا ہے۔ شاہراہ فاطمہ جناح، کچہری روڈ، ہال روڈ، کوپر روڈ، بوڑھ والا چوک اور ایجرٹن روڈ پر بھی ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔لاہورمیں متحدہ اپوزیشن کے احتجاج کے پیش نظر پنجاب حکومت نے دھرنے کے دوران رینجرز طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، رینجرز کو پنجاب اسمبلی، گورنر ہاؤس اورحساس مقامات پر تعینات کیا جائے گا۔لاہورمیں احتجاج اورجلسے کے پیش نظر پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس ، جی سی یونیورسٹی اور مال روڈ کے اطراف کے 6 نجی اسکول بند رکھے گئے۔واضح رہے کہ ماڈل ٹاؤن انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے بعد ڈاکٹر طاہرالقادری نے دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے شروع کیے تھے جس کے نتیجے میں حکومت کے خلاف ایک گرینڈ اپوزیشن الائنس بنایا گیا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.