Daily Taqat

کشمور: ڈاکوؤں کیخلاف دوسرے روز بھی آپریشن جاری

شمور کےکچےکےعلاقے میں چار مغویوں کی بازیابی کے لیے پولیس آپریشن دوسرے روز بھی جاری ہے۔ آپریشن میں 300 پولیس اہلکار، 12 بکتر بند گاڑیاں، پولیس کمانڈوزاور رینجرز کے جوان حصہ لےرہےہیں۔ گزشتہ روز ڈاکوؤں سے مقابلے کے دوران ایس ایچ اوشہید اور دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے ۔

بدنام زمانہ ڈاکونواب جاگیرانی گینگ نے 4 افراد کو اغوا کرکے آدم جی کے علاقے میں یرغمال بنایاتوپولیس حرکت میں آگئی۔ پولیس نے مغویوں کی بازیابی کیلئے کارروائی کی تو ڈاکوؤں نے پولیس پارٹی پر جدید ہتھیاروں سے حملہ کردیا ۔ ڈاکوؤں کے حملے میں ایس ایچ او تھانہ کرم پور انسپکٹر علی حسن بکھرانی موقع پر شہید جبکہ دو اہلکار زخمی ہوئے۔

صورتحال کنٹرول کرنے کیلئے بکتر بند گاڑیوں کیساتھ پولیس کی مزید نفری کو موقع پر طلب کیاگیاہے۔ آج آپریشن کا دوسرا روز ہے جس میں300 پولیس اہلکار، 12 بکتربند گاڑیاں، 50 کمانڈوز حصہ لےرہےہیں۔ پولیس کی معاونت کے لیے رینجرز کے جوان بھی موقع پر موجود ہیں، ڈاکوؤں کے ٹھکانوں کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔

پولیس کارروائی میں اب تک ایک ڈاکو کی ہلاکت اور 9 ڈاکوؤں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق نواب جاگرانی نامی بدنام زمانہ ڈاکو 50 رکنی گینگ کی سربراہی کررہاہے۔

ڈاکوؤں کا یہ گینگ ڈی ایس آر رینجرز سمیت 20 پولیس اہلکاروں کے قتل میں بھی ملوث ہے جس پر متعددمقدمات درج ہیں، کشمورپولیس نے حکومت سندھ سے نواب جاگیرانی کے سرکی قیمت 25 لاکھ مقررکرنے کی سفارش بھی کی ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »