اہم خبرِیں
یوم آزادی تقریب،184 شخصیات کیلئے پاکستان سول ایوارڈزکا اعلان حکومت کا اقتصادی راہداری کا دائرہ بڑھانے کا فیصلہ کورونا وائرس، ویکسین کے ابتدائی تجربات کامیاب یوم آزادی کے موقع پرمسلح افواج کے نغمے جاری ساؤتھمپٹن ٹیسٹ، پاکستان نے 8 وکٹ کے نقصان پر 202 رنز بنالیے اسرائیل اوریو اے ای معاہدہ، مسلم ممالک کی کڑی تنقید یوم آزادی مناتے ہوئے کشمیریوں کونہیں بھولنا چاہئے، صدر مملکت وزیر اعظم عمران خان کا یوم آزادی پر قوم کو پیغام سید علی گیلانی کو نشان پاکستان سے نواز دیا گیا بی آر ٹی کے پہلے روز ہی سیکیورٹی اہلکاروں کی پٹائی پاکستان کا 73واں جشن آزادی، ملک بھر میں چودہ اگست کا شاندار ا... بھارت نے امن کوداؤ پرلگادیا، ڈی جی آئی ایس پی کے الیکٹرک خریدار کی جانچ پڑتال کی جائے، چیف جسٹس آج بھارت میں ایک ہندو اسٹیٹ جنم لے رہی ہے، شاہ محمود قریشی ترکی اورفرانس کی افواج آمنے سامنے، فوجی جھڑپ کا خطرہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کو بجٹ خسارے کا سامنا یوٹیوب نے ای میل سروس بند کردی ڈاکٹروں کی طرح سوچنے والا "اے آئی سسٹم" تیار نازیہ حسن کو مداحوں سے بچھڑے 20 برس بیت گئے پاکستان انگلینڈ دوسرا ٹیسٹ، آج ساؤتھمپٹن میں شروع ہو گا

آن لائن کلاسز ایک مخصوص طبقے تک محدود ہیں، حالات بہتر ہوتے ہی اسکول کھولنے چاہئیں

اسلام آباد: وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ آن لائن کلاسز ایک مخصوص طبقے تک محدود ہے لہٰذا حالات بہتر ہوتے ہیں تو ہمیں اسکول کھولنے چاہئیں۔

گفتگو میں شفقت محمود نے کہا کہ اسکول کھولنا ایک چیلنج ہے، ہم نے کہا ہے کہ 15 تک اسکول کھولیں گے اور جب تک مسلسل صحت کی صورتحال کا تجزیہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ فیصلہ کیا ہے اگست کے پہلے اور آخری ہفتے میں دوبارہ اجلاس ہوگا جس میں تمام صورتحال کا جائزہ لیں گے، اگر بیماری کی شدت کم ہوتی ہے تو اس میں کئی فارمولے ہیں جس کے تحت پہلے بڑی کلاسز کو شروع کرسکتے ہیں، 6 ماہ سے بچے اسکول نہیں جارہے اس سے بہت نقصان ہوا ہے۔

وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ حالات بہتر ہوتے ہیں تو ہمیں کچھ کرنا چاہیے کیونکہ کم فیسوں والے نجی اسکولوں میں فاقوں تک نوبت ہے اس لیے حالات بہتر ہوتے ہیں تو ہمیں اسکول کھول دینے چاہئیں۔

شفقت محمود نے کہا کہ آن لائن کلاسز ایک مخصوص طبقے تک محدود ہے اور جو آن لائن میں پڑھ رہے ہیں انہوں نے کافی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن جہاں پر آن لائن پڑھائی نہیں اس طرح کے سرکاری اسکولوں اور مدارس کا بہت نقصان ہورہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی لیول پر آن لائن کا مسئلہ ہے، بہت سے طلبہ ایسے علاقوں سے ہیں جہاں انٹرنیٹ نہیں، اس سلسلے میں ایچ ای سی نے پیشکش کی ہے کہ عید کے بعد ایسے طلبہ کو جن کے علاقوں میں انٹرنیٹ دستیاب نہیں انہیں ہاسٹل میں آنے کی اجازت دی جائے اور وہاں 30 فیصد ایسے طلبہ کو لایا جائے گا جن کے علاقوں میں نیٹ دستیاب نہیں۔

شفقت محمود نے کہا کہ اب تک جتنے فیصلے کیے ہیں وہ سب صوبوں کے اتفاق رائے سے کیے ہیں، این سی او سی کو بھی تعلیم کے حساب سے ڈیٹا اکٹھا کرنےکا کہا ہے، اسکول کھولنے سے پہلے بچوں کی عمر کے گروپ میں انفیکشن کو بھی دیکھا جائے گا، اساتذہ کو ایس او پیز کی ٹریننگ بھی دیں گے اور بہت ساری چیزوں کو دیکھنے کے بعد ہی فیصلہ کریں گے۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر کے تعلیمی ادارے 15 جولائی تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.