Daily Taqat

کراچی: ضلع وسطی کے 13 سرکاری اسکول مخدوش قرار

محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے کراچی کے ضلع وسطی میں قائم 13 سرکاری اسکولوں کو مخدوش قرار دے کر مرمت کرنے کے لیے خالی کرنے کا حکم دے دیا۔

ضلع وسطی میں قائم 6 سیکنڈری اور 7 پرائمری اسکولوں کی عمارت کو مخدوش قرار دے کر انہیں خالی کرنے کا حکم جاری کردیا گیاہے، صوبائی محکمہ تعلیم کے مطابق موسم گرما کی تعطیلات کے دوران ان اسکولوں کی مرمت کی جائے گی، اس دوران اسکول کے عملے کو قریبی اسکولوں میں منتقل کیا جائے گا۔

اہم بات یہ ہے کہ ان اسکولوں پر ماضی میں قبضہ کرنے کی کوشش بھی ہوچکی ہیں، ایسے میں کئی سوالات جنم لیتے ہیں، ان 13 اسکولوں کی حالت واقعتاً خستہ ہے اور فوری مرمت کی ضرورت ہے لیکن کیا اسکول خالی کروانا ضروری تھا؟

عملے کو قریبی اسکولوں میں منتقل کرنے کا حکم کیوں دیا گیا، کیا پوری عمارت میں ایک ساتھ کام شروع ہوگا، کیا عملے کو عمارت کے کسی بہتر کمرے میں منتقل نہیں کیا جاسکتا تھا؟

یہ اسکول ایک دم مخدوش نہیں ہوئے ،ہر پرائمری اسکول کو 25 ہزار اور سیکنڈری اسکول کو ایک لاکھ روپے ماہانہ فنڈ ملتا ہے، وہ اسکولوں کی مرمت میں استعمال کیوں نہیں ہوا؟

میٹرو پولیٹن اسکول پر قبضہ مافیا متعدد بار قبضے کی کوشش کرچکی ہے ،جبکہ ٹیکنیکل ایچ اسکول عزیز آباد کے ایک حصے پر قبضہ بھی ہوچکا ہے، سیکریٹری اسکولز اقبال درانی کو ترقی ملنے کے باعث جلد ان کا ٹرانسفر متوقع ہے ، ان کے بعد اسکولوں کی دوبارہ بحالی کی یقین دہانی کون کروائے گا؟

حکومت کی جانب سے اسکولوں کی مرمت اچھا اقدام ہے لیکن اسکولوں کی مرمت کے نام پر انہیں قبضہ مافیا سے محفوظ رکھنا بھی محکمہ تعلیم کی ذمہ داری ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »