لڑائی میں کچھ نہیں ملتاآگے بڑھنے کیلئے ضروری ہے کہ ایک دوسرے کو معاف کریں

لاہور: وفاقی وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق نے ڈاکٹر طاہر القادری کو سانحہ ماڈل تاﺅن پر دھرنا دینے کی بجائے عدالت سے رجوع کرنے کا مشورہ دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بین الاقوامی چیلنجزکا سامناہے جن کا کوئی جماعت، حکومت یاادارہ مقابلہ نہیں کرسکتا، آرمی چیف نے ڈنکے کی چوٹ پر جمہوریت کی حمایت کی اسے سراہاجانا چاہیے، کسی بند کمرے کا فیصلہ نہیں چلے گا، انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے اور تمام سیاسی جماعتیں مل کر نئی پارلیمنٹ تشکیل دیں گی۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پاکستان بنا کر تھک ہار کر آنے والے اپنی بحالی میں لگ گئے اورپاکستان کے اقتدار اور پالیسی میکنگ پر آمرانہ اورجاگیردارانہ سوچ کاقبضہ ہوا ۔ ملک میں جمہوریت کےساتھ بار بار کھلواڑ کیا گیا ہے ہم آج تک جمہوریت کے حقیقی مقاصدحاصل نہیں کر سکے۔جمہوریت کی ٹرین کانٹایاپٹری نہیں بدل سکتی اسے سیدھا ہی جانا ہے، آرمی چیف نے ڈنکے کی چوٹ پر جمہوریت کی حمایت کی اسے سراہاجانا چاہیے۔
انہوں نے کہایہ حقیقت ہے کہ پاکستان کو بین الاقوامی چیلنجزکا سامناہے اور یہ چیلنجزاتنے بڑے ہیں کہ کوئی جماعت، حکومت یاادارہ مقابلہ نہیں کرسکتا، اور اداروں میں رسہ کشی سے پاکستان کے دشمن فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔
خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے خلاف فیصلے سے جمہوریت کو نقصان پہنچا جہانگیر ترین کے خلاف فیصلے کی بھی حمایت نہیں کرتا،سیاسی جماعتوں میں جمہوری رویوں کو فروغ دیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ لڑائی نہ ہو اورچاہتے ہیں سب مل کر آگے بڑھیں کیونکہ لڑائی میں کچھ نہیں ملتا اور آگے بڑھنے کیلئے ضروری ہے کہ ایک دوسرے کو معاف کریں۔
سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے حوالے سے اپنے خطاب میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ماڈل ٹاﺅن میں جو کچھ ہوا وہ غلط ہوا ، وہ نہیں ہونا چاہیے تھالیکن اگر قادری صاحب آپ کو عدالتی نظام پر اعتماد ہے تو آپ کو ادھر رجوع کرنا چاہیے کیونکہ اگر عدالت کی نظر میں آپ کا موقف درست ہوا تو مجرموں کو سزا ملے گی، دھرنے دینے، شہر بلاک کرنے سے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا،باقر نجفی کی رپورٹ کی بنیاد پر آپ استعفیٰ مانگ رہے ہیں، اسی رپورٹ کو لے کر آپ عدالت میں چلے جائیں ۔

انہوں نے ڈاکٹر طاہرالقادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری نظام کو نئی آزمائش سے دوچار نہ کریں کیونکہ کچھ لوگ آپ کے کندھوں کو استعمال کرنا چاہ رہے ہیں، یہ بہادری نہیں کہ دھرنے دے کر سڑکیں بند کردیں بلکہ بہادری یہ ہے کہ آپ قانونی راستہ اختیار کریں تاکہ کوئی نیا سانحہ جنم نہ لے، پی ٹی آئی اور دیگر سیاسی جماعتوں کو قادری صاحب کو مشتعل کرکے انہیں کیا مل جائے گا، اگر الیکشن میں تاخیر ہوگئی تو پی ٹی آئی کو کیا فائدہ ہوگا؟۔
خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بروقت انتخابات ہوں گے اور مسلم لیگ ن نواز شریف کی قیادت میں انتخابی مہم چلائے گی تمام سیاسی جماعتیں مل کر ووٹ کے ذریعے نئی پارلیمنٹ بنائیں گے جس کے بعد عوام کا فیصلہ چلے گا کسی بند کمرے کا فیصلہ نہیں چلے گا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.