وزیراعلیٰ بلوچستان کیخلاف تحریک عدم اعتماد،وزیراعظم سے ملاقات نہ کرنے کا فیصلہ

وزیراعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری کیخلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے اپوزیشن اور باغی ارکان کا اجلاس اپوزیشن چیمبر میں ہوا جس میں تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے مشاورتی کی گئی اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ،اجلاس میں جان محمدجمالی،زمرک خان اچکزئی، طاہرمحمود،عبدالقدوس بزنجو،سرفرازبگٹی، مولاناعبدالواسع نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بلوچستان حکومت میں شامل 2جماعتوں نے کرپشن کا بازارگرم کررکھا ہے،وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات نہیں کریں گے،ان کا کہناتھا کہ سرفرازبگٹی کواختیارات حاصل نہیں تھے،حکمران وہ دن بھی یادکریں جب عمران خان نے دھرنادیا تھا،انہوں نے فضل الرحمان کے پاؤں پکڑکرکہاکہ ہماری حکومت بچائی جائے،اگر فضل الرحمان نہ ہوتے توحکومت 4سال بھی نہیں چل سکتی تھی۔
سابق وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ آج ایک بھاری بھرکم وزیراستعفیٰ دے گا،رکن بلوچستان اسمبلی خالدلانگوکوکل اجلاس میں لانے کی تیاری کر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کے مزید 2 ارکان کی اپوزیشن کی حمایت کاامکان ہے جس کے بعد حمایتی ارکان کی تعداد41 ہو جائے گی،زمرک اچکزئی کا کہناتھا کہ وزیراعظم کومشورہ ہے بلوچستان نہ آئیں،شاہد خاقان عباسی کوساڑھے 4 سال ہماری یادکیوں نہ آئی؟۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.