Daily Taqat

نیپرا ارکان میں تنازع، چیئرمین نیپرا سے خصوصی اختیارات واپس لے لئے گئے

اسلام آباد: چیئرمین نیپرا توصیف فاروقی سے ان کے خصوصی اختیارات واپس لے لیے گئے ہیں۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق نیپرا ارکان نے نیپرا ایکٹ کے تحت چیئرمین توصیف فاروقی سے ان کے خصوصی اختیارات واپس لے لیے ہیں۔ نوٹی فکیشن کے تحت چیئرمین نیپرا توصیف فاروقی سے انتظامی اختیارات واپس لے کر خیبر پختونخوا سے نیپرا کے رکن ممبر انجنیئر مقصود انور کو 4 شعبے تفویض کردیئے گئے ہیں۔

توصیف فاروقی پر الزام تھا کہ انہوں نے غیرقانونی نوٹی فکیشنز پر زبردستی دستخط کروانے کے لئے ڈپٹی ڈائریکٹر اسفند یار فاروق کو اپنے آفس میں آٹھ گھنٹے ہراساں کیا اور دباؤ ڈالتے رہے لیکن ڈپٹی ڈائریکٹر نے کسی بھی غیر قانونی کاغذ پر دستخط سے صاف انکار کردیا۔ بعد میں طبعیت کی خراب ہونے پر ان کو شفا اسپتال داخل کروایا گیا۔ اسفند یار فاروق نے غیر قانونی حبس بے جا میں رکھنے پر توصیف فاروقی کے خلاف وفاقی محتسب اعلی کے پاس انکوائری کی درخواست دے دی ہے۔ نیپرا کی ایک قانونی مشیر ماریہ رفیق نے بھی توصیف فاروقی کے غیر پیشہ ورانہ روئے کے خلاف وفاقی محتسب اعلی کے پاس درخواست دے دی ہے اور 4 نومبر سے سماعت شروع ہو جائے گی۔ نیپرا ایکٹ کے مطابق اپنے اپنے متعلقہ صوبوں کی نمائندگی کرنے والے نیپرا ارکان چئیرمین کے برابر کی حیثیت رکھتے ہیں، نیپرا ارکان نے توصیف فاروقی کو غیر انسانی سلوک سے روکنے کی پوری کوشش کی۔ مجبوری میں انہیں نیپرا ایکٹ کے مطابق ایکشن کرنا پڑا؟

توصیف فاروقی پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ خود کو کولمبیا یونیورسٹی کا گریجویٹ متعارف کرواتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ لاہور انجینئرنگ یونیورسٹی سے گریجویٹ ہیں۔ انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی سے صرف ایک ایگزیکٹو کورس کیا ہے جس پر گریجویشن کی ڈگری نہیں بلکہ ایک سرٹیفکیٹ دیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ انہوں نے ڈاکٹر عشرت حسین کی کمیٹی کوبھی ابو ظہبی سے بیٹھ کر انٹرویو میں جھوٹ بولا جس نے ان کو اس پوسٹ کے لئے منتخب کیا؟ کیونکہ نیپرا ایکٹ کے سیکشن 3 میں لکھا ہے کہ صرف ایماندار پروفیشنل ہی نیپرا کا چیئرمین ہو سکتا ہے ایک جھوٹا نہیں۔

توصیف فاروقی کے برے رویے کی وجہ سے نیپرا کی ایک ڈائریکٹر عبدالغفور سولنگی کا انتقال ہوگیا، توصیف فاروقی نے انہوں نے عبدالغفور سولنگی کو ان ہی کے ماتحت کے نیچے تعینات کرکے ذہنی اذیت پہنچائی۔ مرحوم کے بیٹے مرتضی سولنگی نے بھی وفاقی محتسب اعلی کے پاس درخواست دے دی ہے۔

چیئرمین نیپرا پر الزام تھا کہ وہ کارپوریٹ سوشل ریسپونسیبلیٹی کے نام پر نیپرا کے کروڑوں روپے خرچ کر رہے ہیں اور انہوں نے چار لاکھ روپے کی تنخواہ پر ایک کنسلٹنٹ رکھی ہوئی ہے جس کے پاس کوئی تجربہ نہیں ۔ توصیف فاروقی پورے ملک میں کارپوریٹ سوشل ریسپونسیبلیٹی کے نام پر نیپرا کے خرچہ پر سیریں کرتے پھرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ہی لائیسنسیز کیپکو، کے الیکٹرک اور اینگرو پر دباؤ ڈال کر اخوت فاونڈیشن کے ساتھ مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کروائے۔

توصیف فاروقی پر لگائے گئے الزام میں سے ایک خودنمائی کا شوق بھی ہے، کہا گیا کہ وہ سوشل میڈیا پر غیر ضروری طور پر فعال رہتے ہیں جب کہ وفاقی حکومت کی واضح ہدایات ہیں کہ کوئی محکمہ سوشل میڈیا کا استعمال نہ کرے۔

توصیف فاروقی نیپرا ہیرنگز میں شامل معزز پروفیشنلز کے ساتھ بھی توہین آمیز سلوک کرتے ہیں جس کا تحریری ثبوت موجود ہے ۔ توصیف فاروقی بحیثیت چیرمین نیپرا مکمل طور متنازعہ ہوچکے ہیں۔ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ ان کے پاس اس پوزیشن پر رہنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔ اور ان کے خلاف نیپرا ایکٹ کے سیکشن 4 کے مطابق فوری طور پر ایکپیشہ وارقانہ بددیانتی کی انکوائری ضروری ہو گئی ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »