نواز شریف نے سیاست میں لوگوں کو خریدنے کا کلچر ڈالا،1988 میں غیر جمہوری ناخداﺅں کی سرپرستی میں الیکشن لڑا،طاہر القادری

سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری نے آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے سیاست میں لوگوں کو خریدنے کا کلچر ڈالااور 1988 کے انتخابات میں غیر جمہوری ناخداؤں کی سرپرستی میں الیکشن لڑا، سندھ، کے پی کے، بلوچستان میں کیش دے کر دھڑے خریدے گئے۔ انہوں نے کہا شریف فیملی کے ترجمان ایسے چوزے ہیں جو اس وقت انڈوں سے نہیں نکلے تھے، نواز شریف نے بے نظیر بھٹو کی حکومت گرانے کیلئے ساز باز کی۔سربراہ عوامی تحریک کا کہناتھا کہ سیاسی جماعتیں اداروں اورملک دشمنوں کےخلاف اکٹھی ہیں ، نواز شریف کاکردار کہاں سے جمہوری کردار ہے؟ ،سابق وزیراعظم ملک میں چھانگامانگا کلچر کے بانی ہیں،یہ ہے آپ کا نظریہ،انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے جمہوریت کی جڑیں کاٹیں،وہ اتنا کچھ کرکے کہتے ہیں مجھے کیوں نکالا؟،آپ کوآپ کی عمربھرکی کرتوتوں نے نکالا،آپ کو سپریم کورٹ نے آپ کوجھوٹااوربددیانت کہا، جب تک آپ بیٹھے ہیں ہمیں انصاف نہیں ملے گا۔ڈاکٹر طاہر القادری کا کہناتھا کہ میں نے 2014 میں تحریک شروع کی،ابھی تحریک شروع نہیں ہوئی تھی کہ رات کو آپریشن شروع کردیا گیا ، حکمرانوں نے پرامن تحریک جو شروع نہیں ہوئی تھی اسے خطرہ سمجھاگیا اورماڈل ٹاﺅن میں خون کی ندیاں بہادیں،سربراہ عوامی تحریک نے کہا کہ تجاوزات ہٹانے کے نام پر فورس کے ہزاروں ارکان کو بھیجا گیا ،شہیدوں کے خون نے پاناماکی شکل میں نوازشریف کاچہرہ بے نقاب کیا، شہباز شریف،رانا ثناءدیگر نہیں بچیں گے استعفا دیں ،ان کا کہناتھا کہ سعودی عرب میں کون کس کا کندھا استعمال کررہاہے، معاملہ اب صرف میرے ہاتھ میں نہیں رہا،قومی قیادت نے لے لیا ،اب اگردھرناہوگا تو آپ کے اقتدار کو مرنا ہوگا۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے ملکی معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ 1350ارب روپے سود کی ادائیگی میں دیاجا رہاہے ، ایک جانب سلطنت شریفیہ ہے اوردوسری طرف پاکستان کی سلامتی ہے، ملک کا دفاع بھی پیچھے رہ گیا،آپ نے بیٹھے بٹھائے ختم نبوت کے مسئلے کو چھیڑا۔ڈاکٹر طاہر القادری کا کہناتھاکہ اے پی سی میں 40 سے زائد سیاسی جماعتیں شرکت کر رہی ہیں، سانحہ ماڈل ٹاو¿ن اور مجھے کیوں نکالا آج کے قومی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا بعض دفعہ قومی سطح پر ایک سمت کے تعین میں مشکلات نظر آتی ہیں، سیاسی جماعتوں کو 17 جون کے خون شہادت نے اکٹھا کیا ہے، باہمی اختلافات کے باوجود سیاسی جماعتیں آج ایک چھت تلے جمع ہیں۔ ان کا کہنا تھا تمام سیاسی جماعتیں افواج پاکستان اور عدلیہ کے تحفظ کیلئے اکٹھی ہیں، ہم اداروں کو مسمار نہیں ہونے دینگے۔
سانحہ ماڈل ٹاو¿ن پر عوامی تحریک کی لاہور میں اے پی سی میں پاکستان تحریک انصاف، پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم، پی ایس پی سمیت 12 سے زائد جماعتیں شریک ہیں۔ طاہرالقادری آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ تحریک انصاف کا وفد شاہ محمود قریشی، چوہدری سرور، اعجاز چوہدری اور دیگر رہنماو¿ں پر مشتمل ہے جبکہ پیپلزپارٹی کے وفد میں قمر زمان کائرہ، رحمن ملک، سردار لطیف کھوسہ اور میاں منظور وٹو شامل ہیں۔ عوامی مسلم لیگ کا وفد شیخ رشید، پاک سرزمین پارٹی کا وفد مصطفیٰ کمال کی قیادت میں شریک ہے۔ مسلم لیگ ق، جماعت اسلامی، سنی اتحاد کونسل، مجلس وحدت المسلمین،علما مشائخ اور بار کے وفد بھی شریک ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.