ووٹرزکے لیے عمران خان کی طرف سے نولفٹ

 راولپنڈی: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے پاس جلسےجلوسوں کیلئےتو وقت ہے لیکن اپنے ووٹرزکے لیے ان کی طرف سے نولفٹ ہے۔عمران خان نے دو ہزار سترہ میں بھی اپنے حلقہ این اے چھپن کا دورہ نہیں کیا۔

سال 2013 کے عام انتخابات میں تین نشستوں پرکامیابی کے بعد راولپنڈی کی نشست برقرار رکھنے کا فیصلہ کرنے والے عمران خان کے اس اعلان پر این اے چھپن کے ووٹرز خوشی سے سرشار ہوئے تھے لیکن سب کچھ وقتی ثابت ہوا ۔ عمران خان نے ان گزرے سالوں میں کبھی حلقے کا چکر ہی نہیں لگایا۔

دو ہزار سترہ میں بھی عمران خان کے حلقے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔ٹوٹی سڑکیں ، نالوں کی تعمیر میں تاخیر اور فلٹریشن پلانٹس کی حالت زار پر این اے 56 کے رہائشی شکوہ کناں ہیں۔ کہتے ہیں آج تک عمران کان صاحب اس حلقے میں نہیں آئے ۔ نہ ہی ان کی پارٹی کا کوئی بندہ یہاں کسی کی خوشی یا غمی میں شریک ہوا۔

عوام کے مطابق یہ تبدیلی کا نعرہ لے کر آئے تھے اس لیے ہم نے ان کو ووٹ دیا لیکن جیتنے کے بعد انھوں نے مڑ کر یہاں نہیں دیکھا۔مسلم لیگ ن کے رہنماحنیف عباسی نے بھی دل کی بھڑاس خوب نکالی۔ کہتے ہیں یہ حلقہ تو کبھی ان کا تھا ہی نہیں ۔ ان کی جہاں حکومت ہے وہاں کوئی کام نہیں کیا تو اس حلقے میں کیسے کام کروا سکتے ہیں۔

جبکہ پاکستان تحریک انصاف کا موقف اس حوالے سے مختلف ہے ۔ رہنما تحریک انصاف ظہیراعوان کے مطابق عمران خان صاحب کی ہدایت پر ہی ہم یہاں کام کر رہے ہیں ۔ ہماری پوری ٹیم یہاں کام کررہی ہے ۔ خان صاحب کی مصروفیت ایسی ہے کہ وہ ہر وقت کہیں نا کہیں گئے ہوتے ہیں۔

سال 2016ء میں عمران خان کی زیر قیادت تحریک انصاف کی ریلی نے مری روڈ کو رونق بخشی تھی لیکن 2017 میں تو ایسا بھی کچھ نہ ہوا ۔ این اے چھپن کے ووٹرز دوہزار سترہ میں بھی لیڈر کی راہ تکتے رہ گئے۔ کہتے ہیں شہر شہر جلسوں میں بڑی بڑی باتیں کرنے والے عمران خان بنی گالہ سے چند فرلانگ پر اپنے حلقہ انتخاب میں نہیں آسکے ، کیا یہی تبدیلی ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.