نقیب اللہ قتل کیس: آئی جی سندھ نے نئی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی

کراچی: آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے نقیب اللہ قتل کیس کے معاملے پر نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی۔

ایک نوٹیفِکیشن کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی ایڈیشنل آئی جی آفتاب پٹھان کی سربراہی میں بنائی گئی ہے۔

دیگر اراکین میں ایس ایس پی جاوید ریاض اور ایس ایس پی عدیل چانڈیو شامل ہیں جبکہ عابد قائم خانی کیس کے تفتیشی افسر مقرر کیے گئے ہیں۔

نوٹیفِکیشن میں مزید کہا گیا کہ کمیٹی غیر جانبدارانہ تفتیش، سراغ لگانے اور کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کا کام کرے گی۔

اس سے قبل آئی جی سندھ نے 18 جنوری کو بھی اعلیٰ افسران پر مشتمل تین رکنی تحقیقاتی ٹیم کا اعلان کیا تھا۔

نقیب اللہ قتل کیس— کب کیا ہوا؟

رواں ماہ 13 جنوری کو ملیر کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے نوجوان نقیب اللہ محسود کو دیگر 3 افراد کے ہمراہ دہشت گرد قرار دے کر مقابلے میں مار دیا تھا۔

بعدازاں 27 سالہ نوجوان نقیب محسود کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس کی تصاویر اور فنکارانہ مصروفیات کے باعث سوشل میڈیا پر خوب لے دے ہوئی اور پاکستانی میڈیا نے بھی اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس معاملے پر آواز اٹھائی اور وزیر داخلہ سندھ کو انکوائری کا حکم دیا۔

تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے ابتدائی رپورٹ میں راؤ انوار کو معطل کرنے کی سفارش کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا کر نام ای سی ایل میں شامل کردیا گیا، جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اس معاملے کا از خود نوٹس لے لیا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.