نیب ریفرنس؛عدالت نے نوازشریف اورمریم نوازکو جانے کی اجازت دے دی

اسلام آباد:سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نوازاورکیپٹن صفدر (ر) کے خلاف لندن فلیٹس ریفرنس کی سماعت میں دس بجے تک وقفہ کردیا گیا۔

شریف فیملی کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت جج محمد بشیر کررہے ہیں ۔ آج کی سماعت میں جے آئی ٹی کےسربراہ واجد ضیاء کا بیان قلمبند کیا جانا ہے، واجد ضیاء کی عدم حاضری پر احتساب عدالت نے سماعت میں دس بجے تک وقفہ کردیا۔

نواز شریف، مریم اور کیپٹں صفدر کے ہمراہ احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ آج دوبارہ حاضری سےاستثنیٰ کی درخواست عدالت نےنوازشریف اورمریم نوازکوجانےکی اجازت دےدی۔

جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء اصل رپورٹ کے ساتھ پیش ہوں گے اورمریم نواز کے وکیل امجد پرویز ان پر جرح کریں گے۔

گزشتہ روز مکمل جے آئی ٹی رپورٹ کا سماعت کا حصہ نہ بنانے پرمریم نوازکے وکیل نے تمام جلدیں بطور شواہد دینے پر اعتراض اٹھایا تھا۔آج لندن فلیٹس ریفرنس کے بعد 21مارچ کو واجد ضیاءفلیگ شپ اورالعزیزیہ اسٹیل ملزریفرنسز میں اپنا بیان قلمبند کرائیں گے۔

واجد ضیاء کے سوانیب کی جانب سے تمام گواہان کے بیانات قلمبند کیے جاچکے ہیں۔

پس منظر

نوازشریف، مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدرکو سپریم کورٹ نے پاناما کیس کے 28 جولائی کو سنائے جا نے والے فیصلے کے تحت فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور دیگر آف شورکمپنیوں، ایون فیلڈ کی جائیداد اور العزیزیہ کمپنی سے متعلق نیب کے تین ریفرنسز کا سامنا ہے۔

ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ریفرنس میں نواز شریف، ان کے تینوں بچوں اور داماد کو ملزم ٹھہرایا گیا ہے العزیزیہ اسٹیل ملزجدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹے حسن اور حسین نواز نامزد ہیں۔ نواز شریف کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دیکر ان کا کیس علیحدہ کردیا گیا ہے۔

نیب تینوں ریفرنسز کے ضمنی ریفرنسز بھی احتساب عدالت میں دائر کرچکا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.