مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم بھی ڈونلڈٹرمپ کے فیصلہ پر سراپا احتجاج

لاہور: یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے پر جہاں دنیا بھر میں مسلمان احتجاج کر رہے  ہیں وہاں غیرمسلموں نے بھی امریکی صدر کے فیصلے پر شدید تنقیدکر دی اور اس فیصلہ کو دنیا کے امن  کےخلاف سمجھا۔ پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے امریکی صدر کے فیصلہ کو خود امریکہ کی بد عہدی سے منسوب کیا ہے۔ڈاکٹر رمیش کمارمسلم لیگ ن اور قومی اسملبی کے رکن ہیں۔اقلیتی رہ نما کے طور پر انہوں نے امریکی صدر کے فیصلہ پر اپنے کالم میں لکھا ہے کہ یروشلم ایمبیسی ایکٹ کے سیکشن 3(a۔1)کے مطابق امریکی پالیسی کے تحت یروشلم کو ایک ایسا متحد شہر قرار دیا گیا ہے جہاں ہر ایک کے مذہبی اور نسلی حقوق کی حفاظت یقینی ہوسکے لیکن یروشلم میں قائم مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کے مذہبی فرائض کی ادائیگی پر پابندی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ اعلان کے بعدیروشلم میں فلسطینی مظاہرین پر جس ظالمانہ طریقوں سے تشدد کیا گیا بلکہ فضائی حملہ تک کیا گیا ، یہ بہیمانہ کارروائیاں یروشلم ایمبیسی ایکٹ کی بھی خلاف ورزی ہیں۔ میری نظر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق یروشلم کے تقدس کو مقدم رکھتے ہوئے ویٹی کن سٹی کی طرز پر آزاد عالمی حیثیت کو قائم کرنا ضروری ہے یا پھر دو ریاستی حل کے تحت دونوں فریق باہمی رضامندی سے یروشلم کو مشترکہ دارالحکومت قبول کرنے پر آمادہ ہوں لیکن طاقت کے زور پر اسرائیل کا یکطرفہ طور پر مقبوضہ یروشلم کو اپنا دارالحکومت قرار دینا اور امریکہ کا سفارتخانہ وہاں منتقل کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ پر بطور سپرپاور ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عالمی امن و استحکام کی خاطرغیرجانبدارانہ کردار ادا کرنے کیلئے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے کیونکہ سپرپاور کے ایک غلط فیصلے کا خمیازہ ساری انسانیت کو بھگتنا پڑجاتا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.