مسلم لیگ(ن) نے دیرینہ عہدیداروں کو مرکزی مجلس عاملہ سے نکال دیا

اسلام آباد: مسلم لیگ(ن) نے دیرینہ عہدیداروں کو مرکزی مجلس عاملہ سے نکال دیا ہے جبکہ نئے اور بعد میں پارٹی میں آنے والوں کو اعلیٰ سطح کے مشاورتی پلیٹ فارم میں شامل کر لیا گیا ہے ، جس پر مزید کئی رہنما ناراض ہوگئے ہیں۔

مرکزی مجلس عاملہ سے نکالے جانیوالوں میں سابق صدر ، وزیراعظم آزاد کشمیر سردار سکندر حیات، سابق سینیٹر،پارٹی کے نائب  صدر ظفرعلی شاہ، فیڈرل کیپیٹل ایریا کے جنرل سیکرٹری ملک شجاع، مسلم لیگ(ن) اوورسیز کے جنرل سیکرٹری شیخ قیصر محمود، جوائنٹ سیکرٹری رحمت سلام خٹک اور دیگر شامل ہیں۔ سردار سکندر حیات نے پارٹی چھوڑنے کی دھمکی دیتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر سے بھی استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ مجلس عاملہ میں نئے شامل ہونیوالوں میں کھیل داس، چوہدری خادم ایم این اے ، پیرعمران شاہ، وزیر مملکت درشن لال، طارق فاطمی، زہرہ ودود فاطمی، شام سندر، اسلم ابڑو، ہمایوں خان، اسد جونیجو،یونس بلوچ، ایم این اے کرن حیدر شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے آئین کے تحت پارٹی کے تمام ذیلی ونگز کے صدور اور جنرل سیکرٹریز بلحاظ عہدہ مرکزی مجلس عاملہ کے ارکان میں شامل ہوتے ہیں آئین کو نظرانداز کرتے ہوئے ذیلی ونگز کے عہدیداروں،مرکزی سینئر نائب، جوائنٹ سیکرٹری کے عہدے رکھنے والوں کو فارغ کر دیا گیا ہے جس سے ناراض رہنماﺅں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔شیخ قیصر محمود نواز شریف کی جلاوطنی کے دور میں پارٹی چلانے کے لئے فنڈز فراہم کرتے رہے ہیں، مشرف آمریت کیخلاف اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد سید ظفر علی شاہ کے گھر پر قائم ہوا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.