نواز اور شہباز شریف کی والدہ انتقال کر گئیں

لاہور: سابق وزیراعظم نواز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر لندن میں انتقال کر گئیں ہیں۔

لندن میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر طویل علالت کے بعد انتقال کرگئیں، رہنما ن لیگ عطاء اللہ تارڑ نے نواز شریف کی والدہ کے انتقال کی تصدیق کردی ہے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق سنٹرل جیل کوٹ لکھپت میں قید شہباز شریف کو ان کی والدہ کے انتقال کی خبر پہنچائی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ نواز شریف کی والدہ شدید علالت کے باوجود فروری میں لندن روانہ ہوئی تھیں، ڈاکٹروں نے انہیں لمبے سفر سے منع کیا تھا لیکن انہوں نے اپنے بیٹے کے پاس جانے کا کہا۔ نواز شریف اور شہباز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر کی عمر تقریبا 90 سال تھی جب کہ ان کے خاوند میاں محمد شریف کا 2004 میں جدہ میں انتقال ہوا تھا۔

مسلم لیگ ن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر کی میت لندن سے پاکستان واپسی کے لیے ان کے اہل خانہ مختلف ائیر لائنز سے رابطے میں ہیں۔ نواز شریف شہباز شریف کی پے رول پر رہائی کا انتظار کررہے ہیں تاکہ والدہ کی تدفین کے حوالے ان سے مشاورت کرسکیں۔

ذرائع کے مطابق نواز شریف کی والدہ کی میت فلائٹ ملتے ہی لاہور پاکستان روانہ کردی جائے گی۔ ان کی میت آنے میں 24 گھنٹے سے زائد لگ سکتے ہیں۔امکان ہے کہ ان کی میت کے ہمراہ نواز شریف کی صاحبزادی اسماء نواز پاکستان آئیں۔

مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ بیگم شمیم اختر کا جسد خاکی پاکستان آنے میں دو سے تین دن لگیں گے، نماز جنازہ شریف میڈیکل سینٹر میں ادا کی جائیگی۔ شہباز شریف، نواز شریف سے بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے تھے، کوشش ہوگی شہباز شریف کی پیرول پر رہائی کے لیے 14 سے 15 دن کی درخواست دی جائے۔

دوسری جانب ن لیگ ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی والدہ کی پہلے نماز جنازہ لندن میں پڑھائی جائیگی، نماز جنازہ سینٹرل مسجد ریجنٹ پارک اسٹریٹ میں ادا کی جائیگی، میت کو نماز جنازہ کے بعد لندن سرد خانے میں رکھا جائیگا۔ میت کو لاہور جانے والی کسی بھی فلائٹ کے ذریعے پاکستان بھیجا جائیگا، بیگم شمیم اختر کی تدفین جاتی امرا میں خاندانی قبرستان میں کی جائیگی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.