جج کوجو دل میں آئے وہ فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں,چیف جسٹس پاکستان

سپریم کورٹ نے قراردیا ہے کہ جج کوجو دل میں آئے اس کے مطابق فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں،سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ جرمانہ سزاکا حصہ ہے جسے کسی صورت معاف نہیں کیا جاسکتا۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار اور مسٹرجسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل بنچ نے یہ آبزرویشن 46کروڑ روپے ٹیکس فراڈ کیس میں ملوث سعادت علی خان، محمد علی خان اور احمد علی خان کی طرف سے دائر 48اپیلیں خارج کرتے ہوئے دی ۔چیف جسٹس نے ملزموں کے وکیل احمد اویس سے استفسار کیا کہ کروڑوں روپے کے ٹیکس فراڈ میں سپیشل جج سینٹرل نے سزاکے ساتھ صرف فی کس 3ہزارروپے جرمانہ کیسے کردیا؟چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کے تحت سزا کے ساتھ غبن کی جانے والی رقم کے برابر جرمانہ کیا جانا تھا،چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جج کے دل میں جو آئے اس کے مطابق فیصلہ کرنے کاکوئی اختیار نہیں،قانون کے تحت ٹرائل عدالت کے جج کو اپنے فیصلے میں صوابدیدی اختیارکو استعمال کرنے کی وجوہات بیان کرنی چاہیے تھیں جو کہ نہیں کی گئیں،بادی النظر میں کہیں مک مکاہوا ہے اور جج نے اپنے اختیار کا غلط استعمال کیا ہے،عدالت کو بتایا جائے کہ ابھی یہ جج اپنے عہدے پر موجود ہے؟سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مقدمہ کا فیصلہ کرنے والے جج نسیم اختر خان ریٹائرڈ ہو گئے ہیں ۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر جج عہدے پر ہوتا تو اسے نوٹس بھیجا جاتا،چیف جسٹس نے ملزمان کے وکیل کی جرمانے میں کمی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آپ انہیں بچانا چاہتے ہیں جنہوں نے مال کھایا ،اگر ملزمان بے گناہ تھے تو ٹرائل عدالت کے سامنے اقرار جرم کیوں کیا؟ٹرائل عدالت کا اختیار ہے کہ سزا بھی کرے اور جرمانہ کی ادائیگی کا بھی حکم دے ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.