مولانا فضل الرحمان کی فاٹا اصلاحات کے مسئلے پر آرمی چیف سے ملاقات

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ فاٹا اصلاحات کا مخالف نہیں ہوں، فاٹا اصلاحات پر ابھی مزید مشاورت کی ضرورت ہے ،اس مسئلے کا حل عوامی امنگوں کے مطابق اور جہاں آئینی سقم ہے اس پر آئینی ماہرین کی رائے لی جائے اور آئین پاکستان کی پیروی میں فاٹا کے مسئلے کو حل کیا جائے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے چیمبر میں مولانا فضل الرحمان اور آرمی چیف کے درمیان ملاقات ہوئی ہے اس اہم ملاقات میں ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم او اور سینیٹ میں ڈپٹی اسپیکر مولانا عبدالغفور حیدری بھی شریک تھے تاہم سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری تھوڑی دیر بعد چیمبر سے اٹھ کر سینیٹ چلے گئے تھے۔ملاقات ایک گھنٹہ 25 منٹ تک جاری رہی جس میں مولانا فضل الرحمان نے فاٹا کے انضمام پر اپنے تحفظات کا اظہار آرمی چیف کے سامنے بھی کیا۔ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کا کہنا تھا کہ فاٹا کے معاملے پر ابھی بات چیت جاری رہے گی لیکن اس اجلاس میں فاٹا سے متعلق بل منظور ہونےکا کچھ نہیں کہہ سکتا۔ عسکری حکام سے مزید ملاقات کی ضرورت نہیں تاہم فاٹا بل پر ابھی مزید مشاورت ہوگی۔فاٹا کے معاملے پرموقف بڑی تفصیل سے آرمی چیف کے سامنے رکھا اور وزیراعظم کوکہا ہے کہ فاٹا جرگے کی سپریم کونسل سے ملاقات کریں ، اب شاہد خاقان عباسی جرگے سے کب ملاقات کرتے ہیں ان پر منحصر ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں اور اگر پارلیمنٹ بھی فاٹا کے حوالے سے اصلاحات چاہتی ہے تو ہم اپنے اختلافات کو بھلا کر قبائلی عوام کا ساتھ دینے کے لئے کھڑے ہوں گے کیوں کہ فاٹا کا معاملہ ہماری ذات کا نہیں قومی مسئلہ ہے، تاہم اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے آئین میں موجود سقم کو فوری طور پر دور کیا جائے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.