معصوم زینب قتل کی کڑیاں پیڈوفیلیا یا وائلنٹ پورن انڈسٹری سے جڑنے کاانکشاف

لاہور:  معصوم زینب کے قتل کی کڑیاں پیڈوفیلیا یا وائلنٹ پورن انڈسٹری سے جڑنے کا انکشاف ہوا ہے  اور بتا یا گیا ہے کہ ڈارک ویب کی سب سے زیادہ منافع پہنچانے والی انڈسٹری میں بڑی عمر کے لوگ بچوں یا بچیوں سے جنسی فعل کرتے یا انہیں جنسی نشانہ اور تشدد کا نشانہ بنتے دیکھ کر شیطانی تسکین حاصل کرتے ہیں جبکہ انتہائی منافع بخش انڈسٹری کے لیے تیسری دنیا جس میں بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال، افغانستان وغیرہ کے ملک آسان ترین ہدف سمجھے جاتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اس قسم کے جنسی تشدد میں معصوم بچوں کو پہلے جنسی آگ بجھانے کے لیے استعمال کرنے کے بعد چھری یا خنجر جیسے آلہ کے ساتھ انکی کلائیاں کاٹی جاتی ہیں اور پھر انکے نازک اعضا پر بے دردی سے وار کر کے نہ صرف تسکین حاصل کی جاتی ہے بلکہ اسکی عکس بندی کرکے ان بڑی عمر کے لوگوں کو براہ راست باریکارڈنگ دکھائی جاتی ہے جو اس ڈارک ویب کی ممبر ہوتے ہیں اور اسکے لیے گرانقدر معاوضہ دیتے ہیں۔ذرائع نے بتایا ہے کہ معصوم زینب اور قصور میں جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی دیگر بچیوں پر بھی اس طرح کے تشدد کی رپورٹس ہیں۔ انٹرنیٹ کی گھنائونی کمیونٹی کو سرچ کرنا آسان نہیں تاہم 2009 میں بھارئی شہر ممبئی کے ایک اپارٹمنٹ میں رادھا نامی چھ سال بچی کی تشدد لاش ملی تھی جسے جنسی تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے بعد ازاں ہاتھ اور کلائیاں کاٹی گئی تھیں۔
اسکی زبان نوچی گئی تھی اور اعضائے مخصوصہ پر چھریوں کے وار کئے گئے تھے اس واردات کے دو سال بعد ایک ہیکر نے جب ایک ڈارک ویب کی کچھ ویب سائٹس کو ہیک کیا تو وہاں سے رادھا کی ویڈیو ملی تھی جس پر دو سال قبل لائیو کا ٹیگ لگا ہوا تھا۔ یعنی رادھا کو جب جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اسکی ویڈیو کو ڈارک ویب کمیونٹی کے لیے براہ راست نشر کیا گیا اور کروڑوں ڈالرز کمائے گئے ماہرین اور بین الاقوامی جریدوں کے مطابق 2007 کے اعداد و شمار کے مطابق اس دھندے سے وابستہ لوگوں کی تعداد 45 لاکھ جو کروڑوں ڈالرز کی تجارت سے جڑی ہوئی ہے۔
ذرائع کے  مطابق2017 تک اس میں پانچ سو گنا کی خطرناک حد تک اضافہ ہوچکاہے۔چائلڈ پورن گرافی یا وائلنٹ پورن کے حوالے سے کیا جاتا ہے کہ اس میں ایسے بااثر لوگ ملوث ہیں جن پر ہاتھ ڈلنا انتہائی مشکل ہے۔معصوم زینب کے پر تشدد قتل کے حوالے سے بھی کیا جارہا ہے کہ اسکا تعلق عالمی ڈارک ویب سے ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.