سر عام پھانسی کا قانون موجود تھا،اس کو دوبارہ لانے کے لئے غور کیا جارہا ہے : چیئرمین سینیٹ

لاہور:چیرمین سینیٹ رضا ربانی کا کہنا ہے کہ ہمارے آئین میں سرعام پھانسی کا قانون موجود تھا جس کو اب دوبار ہ لانے کے لئے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون اس پر غور وخوض کر رہی ہے۔
لاہور میں ایوان اقبال میں ایک کالج کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب میں چیرمین سینیٹ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ملک میں ماورائے آئین کوئی کام نہیں ہونا چاہیے سینیٹ الیکشن اپنے مقررہ وقت پرہوں گے، آئین کے اندر الیکٹرول کالج مکمل یا نامکمل کا کوئی ذکر نہیں سینیٹ کے نئے ارکان 12مارچ کو حلف اٹھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اداروں کی مضبوطی کیلئے لازم ہے کہ ادارے ایک دوسرے کا احترام کریں اور  آئین کے اندر رہ کر اپنا کام کریں۔
قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی معصوم زینب کو کیس کے لے کر قوم کے اندر کافی غم وغصہ پایا جارہا ہے اور مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اس واقعے میں ملوث فرد کو سر عام پھانسی دیتے ہوئے نشان عبرت بنایا جائے جبکہ اس حوالے سے وزیر اعلی پنچاب شہباز شریف بھی کہ چکے ہیں کہ وہ اس مطالبے کے ساتھ ہیں اگر اس معاملے میں کوئی بھی قانونی ترمیم کرنی پڑتی ہے تو کیجائے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.