Daily Taqat

خیبرپختون خوا کے 17 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات، متعدد مقامات پر بدنظمی اور ہنگامہ آرائی

پشاور: خیبر پختون خوا کے 17 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے لئے پولنگ کا عمل جاری ہے جب کہ مختلف علاقوں میں بدنظمی کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

خیبرپختون خوا میں بلدیاتی الیکشن کا میدان سج گیا ہے، پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کیلئے پولنگ جاری ہے جو شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔ پہلے مرحلے میں پشاور، نوشہرہ، کوہاٹ، ڈی آئی خان سمیت 17 اضلاع میں پولنگ ہو رہی ہے، جنرل نشستوں کیلئے 19 ہزار 282 امیدوار مدمقابل ہیں، خواتین کی نشستوں کیلئے 3 ہزار 905 امیدواروں میں مقابلہ ہے۔

دوسری جانب کئی مقامات پر شدید بدنظمی کے واقعات سامنے آئے ہیں، کہیں اسٹیمپ ناکارہ تو کہیں پولنگ اسٹیشنوں پر کارکنوں میں ہاتھاپائی کہیں فائرنگ تو کہیں ہنگامہ آرائی کے بعد بیلٹ باکس توڑ کر پیپر بھی پھاڑ دیئے گئے۔ کوہاٹ کے علاقے شیخان میں پولنگ اسٹیشن کے باہر مخالفین کی فائرنگ سے صفدر نامی شخص جاں بحق جب کہ 2 افراد طیب شاہ اور عقیل زخمی ہوگئے۔

درہ آدم خیل کے علاقے پیروال خیل میں پولنگ اسٹیشن پرانضمام مخالف افراد نے حملہ کرکے بیلٹ باکس توڑدیئے، مشتعل افراد نے پولنگ اسٹیشن کے باہر متعدد کیمپوں کو آگ لگادی۔ میونسپل انٹرکالج شاہی باغ میں اسٹیمپ ناکارہ ہونے پر پولنگ روکنا پڑی۔ ابراہیم آباد کے خواتین پولنگ اسٹیشنز میں مردوں کے داخل ہونے پر جھگڑا ہوا جب کہ شاہ عالم تحصیل میں ورکروں کی لڑائی پر پولنگ روک دی گئی۔ خیبر میں بدنظی کی شکایت پر ہنگامہ ہوا اور بیلٹ باکس توڑ دیا گیا۔

پولنگ اسٹیشنز میں پابندی کے باوجود کیمرے کا استعمال ہوا اور ووٹرز ووٹ کی تصاویر بناکر سوشل میڈیا پر ڈالتے رہے۔ پشاور این سی 33 اور 34 کے پولنگ اسٹیشنز میں بیلٹ پیپر پہنچنے پر تنازع شروع ہوگیا۔ اے این پی اور پیپلزپارٹی کے امیدواروں کا مخالف پارٹی پر دھاندلی کا الزام لگا دیا۔ الیکشن سے پہلے بیلٹ پیپر پہنچنے پر مظاہرین اسکول میں داخل ہوگئے اور نعرے بازی کی۔ پولیس نےتحصیل گور گٹھڑی اسکول کی پریذائیڈنگ آفیسرکو گرفتارکر لیا۔ ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق۔۔الیکشن کمیشن نے پولنگ عملے کو فوری طور پر ہٹا دیا۔

لکی مروت میں ملتانی منجیوالہ کے خواتین کے پولنگ اسٹیشن کے باہر دو امیدواروں کے حامی گروپوں میں فائرنگ ہوئی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جس کے بعد پولنگ کچھ دیر کے لئے روک دی گئی۔ ادھر پشاور گلبہار کے پولنگ اسٹیشن میں ہنگامہ آرائی ہوئی کارکن آپے سے باہر ہوگئے اور بیلٹ باکس توڑ کر بیلٹ پیپر بھی پھاڑ کر زمین پر پھینک دیئے جس کے بعد پولنگ اسٹیشن پر ووٹنگ کا عمل روک دیا گیا۔

بنوں کی تحصیل بکاخیل میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث پولنگ ملتوی کردی گئی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ڈی آر او بنوں اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کی جانب سے کچھ پولنگ اسٹیشنوں پر ناخوشگوار واقعات اورامن و امان کی مخدوش صورتحال کی نشاندہی کی گئی۔ چیف الیکشن کمشنر نے تین رکنی کمیٹی تشکیل دیدی بکا خیل میں رات گئے چار پولنگ اسٹیشنوں پر مسلح نقاب پوشوں نے حملہ کیا، پولنگ کا سامان اٹھا کرلے گئے۔

خیبرپختون خوا کے 17 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 26لاکھ68ہزار862ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کررہے ہیں، مرد ووٹرزکی تعداد70 لاکھ15 ہزار767جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد56لاکھ53ہزار95ہے، کل 9 ہزار 223پولنگ اسٹیشنز اور28ہزار892پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں جن میں 4188پولنگ اسٹیشن حساس اور 2507زیادہ حساس قرار دیے گئے ہیں۔

بلدیاتی انتخابات میں پولنگ اسٹیشنز پر باہمت معذور افراد بھی پہنچے اور اپنا ووٹ کاسٹ کردیا۔ بلدیاتی انتخابات کیلیے77ہزار پولیس اہلکار تعینات ہیں جبکہ فرنٹیرکانسٹیبلری اورفوج کے10ہزار جوانوں پر مشتمل کوئیک رسپانس فورس بھی موجود ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »