کوئی شرم کوئی حیا ہوتی ہے، بلال سعید اور صبا قمر کی مسجد میں گانے پر شوٹنگ

اوقاف انتظامیہ روکنے کی بجائے محضوض ہوتی رہی'اوقاف نے اجازت نامہ جاری کیا

رقص و میوزک چلانے سے منع کیا تھا’ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کرینگے ‘ سیکرٹری اوقاف
اداکارہ صبا قمر اور سنگر بلال سعید کے خلاف ایف آئی آر درج ہونی چاہیے
مساجد عبادات کیلئے مختص ہیں’تقدس پامال کیاگیا’ مفتی سید عاشق حسین
صبا قمر اور بلال سعید فی الفور اپنے فعل پر اللہ کے حضور معافی مانگیں’ ڈاکٹر محمد حسنین

لاہور: معروف اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید اداکاری کے جوہر دکھانے مسجد میں پہنچ گئے اور اپنے نئے گانے ” قبول” کی مسجد وزیر خان میں ویڈیو شوٹ کر ڈالی، صبا قمر اور بلال سعید نے دن دیہاڑے مسجد کا تقدس پامال کیا اور لاؤڈ میوزک و رقص کے ساتھ مسجد وزیر خان کے اندر گانے کی عکس بندی اور فوٹو شوٹ بھی کیا ، مسجد وزیر خان کی انتظامیہ اس حیائ سوز کام کو روکنے کی بجائے اداکاروں کی شوٹنگ سے محضوض ہوتی رہی، دلچسپ بات یہ ہے کہ اوقاف انتظامیہ کی جانب سے گانے کی ریکارڈنگ کا باقاعدہ اجازت نامہ بھی جاری کیا گیا تھا مگر اس میں تنبیہ کی گئی تھی کہ مسجد کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے میوزک و رقص نہ کیا جائے تاہم اداکاروں نے اوقاف انتظامیہ کے احکامات کی دھجیاں بکھیر دی، گانے کی ویڈیو سامنے آنے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے. اس حوالے سے معروف سکالر مفتی سید عاشق حسین نے روزنامہ طاقت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں اداکاروں پر ایف آئی آر درج ہونے چاہیے جنہوں نے مسجد کا تقدس پامال کیا، دو نامحرم افراد نے مسجد میں رقص کرکے شریعت محمدی کی سنگین خلاف ورزی کی ہے، مساجد عبادات کیلئے مختص ہیں وہاں اسے حیائ سوز کام کسی صورت قبول نہیں، اوقاف انتظامیہ فی الفور واقعہ میں ملوث ذمہ داران کے خلاف بھی کارروائی کرے، علماء و عوام پاکستان واقعہ کو سرد خانے کی نذر نہیں ہونے دینگے، معروف سکالر و سربراہ شعبہ اسلامک سٹڈیز ڈاکٹر محمد حسنین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا مسجد کا تقدس پامال کرنا گناہ ہے، مسجد میں اونچی آواز میں گفتگو کرنے سے منع کیا گیا ہے تو گانا بجانا تو درکنار، خانہ خدا میں رقص کرکے اداکاروں نے عذاب الہی کو دعوت دی ہے، صبا قمر اور بلال سعید فی الفور اللہ کے حضور معافی مانگیں، حکومت وقت معاملے کا نوٹس لیکر ذمہ داران کو سزا دے،سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر ارشاد کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ معاملے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے، ملوث ذمہ داران کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی، مذہبی جذبات مجروح کرنے والوں کو معاف نہیں کرسکتے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.