کراچی: پی ٹی آئی کی احتجاجی ریلی میں مظاہرین پرپولیس کا لاٹھی چارج

کراچی : میں گنے کے کاشتکاروں کے حق میں پاکستان تحریک انصاف نے احتجاجی ریلی نکالی، مظاہرین کی جانب سے وزیراعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور شیلنگ بھی کی گئی پھر حلیم عادل شیخ سمیت متعدد کارکنان کو گرفتار اور پھر رہا کیا گیاجبکہ مظاہرین کے تشدد سے 6 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک ہے۔

تحریک انصاف نے سندھ میں گنے کے کاشتکاروں کے حق میں احتجاجی ریلی نکالی، ریلی کا آغاز حیدرآباد سے ہوا، مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ کاشتکاروں سے گنا 182 روپے من کے حساب سے خریدا جائے اور سندھ کی بند شوگر ملوں کو فی الفور کھولا جائےاور جب ریلی کرا چی ٹول پلازہ پہنچی تو الہانہ استقبال کیا گیا۔

ملیر کینٹ کے قریب پولیس نے رکاوٹیں لگاکر راستہ روکا مگر ریلی کے شرکاء پولیس سے ہاتھا پائی کے بعد رکاوٹیں توڑتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔

کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچی جب ریلی میٹرو پول کے قریب پہنچی، مظاہرین وزیراعلیٰ ہاؤس جانا چاہتے تھے مگر پولیس نے آبی توپ، لاٹھی چارج اور شیلنگ کرکے اس کوشش کو ناکام بنادیا۔

اس دوران پولیس نے پی ٹی آئی کے رہنما حلیم عادل شیخ سمیت 25 مظاہرین کو گرفتار کرلیا، جس کے بعد عارف علوی، عمران اسماعیل اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے میٹروپول پر دھرنا دے دیا۔

میٹروپول شاہرہ فیصل پر ہونا والا دھرنا پی ٹی آئی کے گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کے لیے رات گئے تک جاری رہا،جو سندھ حکومت اور تحریک انصاف کی قیادت کے درمیان مذاکرات کے بعد اختتام کو پہنچا۔

حکومت سندھ کی جانب سے مذاکرات صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ اور پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات عمران اسماعیل اور دیگر نے کیے ۔

مذاکرات کی کامیابی کے بعد صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر یہاں آیا ہوں،گنے کے نرخ کے حوالے سے پی ٹی آئی کے جو مطالبات ہیں انہیں پورا کرنے کی کوشش کریں گے ۔

اس موقع پر عمران اسماعیل نے کہا کہ سندھ حکومت نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ گنے کے نرخ کا معاملہ جلد حل کردیا جائے گااور اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو ہم دوبارہ احتجاج کریں گے۔

ادھر آرٹلری میدان تھانے سے رہائی کے بعد حلیم عادل شیخ نے بھی کہا کہ وہ غریب ہاریوں کے حقوق کے لئے نکلے تھے، شوگر ملیں بھی چلیں گی،ریٹ بھی ملے گا اگر نہیں ملا تو دوبارہ دھرنا ہوگا۔

خرم شیرزمان نے ایس ایچ او سلیم ملک کے خلاف حلیم عادل شیخ کو جان سے مارنے کی دھمکی دینے اورکارکنان پر تشدد کے خلاف انکوائری کے لئے درخواست دی ۔

پولیس کا کہنا ہے مظاہرین کے تشدد سے 6 اہلکار زخمی ہوگئے ہیں، جن میں سے 2 اہلکاروں کی سینے اور سروں پر چوٹیں لگنے کے باعث حالت تشویشناک ہے


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.