کراچی : اے سی ایل سی اہلکاروں کی فائرنگ نے ایک نوجوان کی زندگی کاچراغ بجھادیا

کراچی: شہرقائد کے علاقے ڈیفنس میں اے سی ایل سی اہلکاورں کی فائرنگ سے نوجوان جان کی بازی ہار گیا ، مقتول والدین کا اکلوتا بیٹا تھا جبکہ ماں جھولیاں اٹھا اٹھا کر انصاف کی بھیک مانگتی رہی ، نوجوان کی ہلاکت کامقدمہ درج کرکے اے سی ایل سی کے 4اہلکاروں کو حراست میں لے لیاگیا ۔
تفصیلات کے مطابق مقتول انتظاراحمدکے والدکاکہناتھاکہ ان کے بیٹے کی کچھ روزقبل فہداورحیدرسے لڑائی ہوئی تھی جوکہ کسی پولیس افسر یا جج کے بیٹے ہیں، انتظاراحمد میرا اکلوتا ابیٹا تھا ہمیں انصاف چاہیے۔
دوسری جانب واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کے اعلیٰ حکام حادثے کی جگہ پرپہنچے اورشواہداکھٹے کیے۔جناح اسپتال کے باہرڈی آئی جی سی آئی اے ثاقب اسماعیل میمن کا کہنا تھا کہ کارسے کچھ فاصلے پراینٹی کارلفٹنگ سیل کی موبائل بھی موجودتھی جس نے مقتول کی گاڑی کوروکنے کی کوشش کی اورنہ رکنے پرفائرکردیا۔ واقعے کامقدمہ درخشاں تھانے میں نامعلوم افرادکے خلاف درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔
والدین کے ہمراہ  مقتولہ فیملی کے وکیل کاکہناتھاکہ کیا اس ملک میں جنگل کاقانون چل رہا ہے، کوئی ملوث ہے تواسے نامزدکر کے سزابھی دی جائے،پولیس کے پاس اس گاڑی کی چابی نہیں تھی،کسی پولیس افسرنے ہم سے رابطہ نہیں کیا، جس تفتیشی افسرکویہ سب دیاگیااس نے بھی کچھ نہیں کیا،اگرکوئی اشارے پرنہیں رکتا تو کیااسے ماردیاجائےگا؟4گھنٹے تک ورثاگاڑی کے پاس کھڑے رہے،کسی پولیس افسرنے رابطہ نہیں کیا،ہم نے اپنابیان ریکارڈکرادیاہے۔
انتظار کے اہلخانہ کاکہناتھاکہ اگرکوئی انتظار کےساتھ تھاتوہمیں حقائق سے آگاہ کیاجائے،انتظار کےساتھ کسی لڑکی کے ہونے کی اطلاع نہیں اور نہ ہی انتظار کا کوئی سیاسی تعلق ہے ۔ مقتول کی والدہ انصاف کیلئے دہائیاں دیتی رہی جبکہ والد کاکہناتھاکہ پولیس سے کوئی امیدنہیں،چیف جسٹس سے امید ہے،مجھے اپنے بچے کے قاتل چاہیں ، میرے بیٹے کو بے قصور قتل کیاگیا، وہ اے لیول کا امتحان دے چکا تھا اور 19نومبر کو بیرون ملک سے چھٹیوں پر آیا تھا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.