کراچی: کئی روز گزر جانے کے باوجود دودھ کے نرخ مقرر کرنے کا تنازع حل نہیں ہوسکا

کراچی میں انتظامیہ اور دکانداروں کے درمیان ٹھن گئی، کئی روز گزر جانے کے باوجود دودھ کے نرخ مقرر کرنے کا تنازع حل نہیں ہوسکا ، جس کی وجہ سے شہر بھر کی بیشتر دکانیں بندہیں ، جس سے صارفین پریشان ہیں اور لگتا ہے جیسے شہر میں دودھ کے لالے پڑگئے ہوں۔کمشنر کراچی کے اجلاس میں ڈیری فارمرز تو متفق ہوگئے ۔ لیکن ہول سیلرز اور دکانداروں نے منافع میں 75 پیسے کمی کو تسلیم

کرنے سے انکار کردیا ۔ شہر میں دوسرے روز بھی کہیں دودھ کی دکانیں کھلی ہیں تو کہیں بند ہیں۔ دودھ 85 سے لے کر 100 روپے فی لیٹر تک فروخت کیا جا رہا ہے، پریشان شہریوں نے قیمت کنٹرول کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔گزشتہ روز 5 گھنٹے تک کمشنر کراچی اعجاز احمد خان کی زیر صدارت دودھ کی قیمت مقرر کرنے کے لئے اجلاس ہوا۔ڈیری اینڈ کیٹل فارمز کے صدر شاکر عمرگجر کے مطابق دودھ کا سرکاری نرخ فی لیٹر 85 روپےسے بڑھاکر 95 روپے فی لیٹر کرنے پر اسٹیک ہولڈرز سے بات ہوئی۔دودھ کے تجویز کردہ نئے نرخ میں ڈیری فارمز کا نرخ 74روپے 50 پیسے سے بڑھ کر 86 روپے کرنے پر تو اتفاق ہوگیا ،لیکن دکانداروں اور ہول سیلرزنے اپنے منافع میں 75 پیسے کمی کو مسترد کردیا ۔دودھ فروشوں نے دوسرے روز بھی دکانیں نہ کھولنے کا اعلان کیا۔ لیمارکیٹ دودھ منڈی میں دودھ تو آیا ، لیکن خریدار نہ ہونے کی وجہ سے 40 فیصد دودھ خراب ہوگیا ، باقی فروخت ہوگیا ۔دودھ منڈی سے آنے والے خریدار کا کہنا ہے کہ صبح اور شام کے ریٹ الگ الگ رکھے جار ہے ہیں ۔دودھ کا تنازع تو حل نہیں ہوسکا ، لیکن جن علاقوں میں دودھ کی دکانیں کھلی ہیں وہاں 85 روپے کے بجائے سو روپے فی لیٹر تک دودھ فروخت کیا جارہا ہے ۔اس طرح من مانی قیمتیں وصول کرکے انتظامیہ کی رٹ کو چیلنج کیا جارہا ہے اور انتظامیہ کہیں نظر نہیں آرہی ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.