عدلیہ کے فیصلے سے ملک میں انتشار پھیلاہے: نواز شریف

مسلم لیگ(ن) کے صدر میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ میں نے ہمیشہ خلوص نیت اور بغیر ملاوٹ کے ملک کی خدمت کی ہے ، مجھ پر ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی ، کروڑوں عوام کے مینڈیٹ کو پانچ آدمیوں نے اقامے اور خیالی تنخواہ کی بنیاد پر اپنے پاﺅں تلے روند ڈالا ، اس ملک کی خاطر جو جو امتحانات مجھ پر آئے ، شہباز شریف پر آئے مسلم لیگ(ن) پر آئے اس سے پوری قوم واقف ہے ، آج میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ مجھ پر ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں ہو سکی، جو زخم میرے دل پر لگے ہیں میں انہیں بولنے والے نہیں ہیں ، مجھ پر زخم در زخم نہ لگاﺅ، یہ زخم نواز شریف کے سینے پر ہی نہیں لگ رہے بلکہ اس قوم کے دل پر لگ رہے ہیں،قوم اس فیصلے سے پوچھتی ہے جس نے ملک میں بے روزگاری کو فروغ دیا اور کروڑوں عوام کے مینڈیٹ کو خیالی تنخواہ اور اقامے کی بنیاد پر اپنے پاﺅں تلے روند ڈالا۔ سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ(ن) کے صدر میاں محمد نواز شریف کا کہنا تھا کہ جب ہم اقتدار میں آئے اس وقت ملک میں چاروں طرف اندھیروں کا راج تھا، کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے عوام کو اندھیروں میں دھکیل دیا ، پاکستان کو اندھیروں میں ڈبونے والے ڈکٹیٹروں اور سیاستدانوں کے چہرے عوام یاد کریں۔ہم نے چار سالوں کے اندر اندر ملک سے اندھیروں کا خاتمہ کردیا جبکہ اس سے قبل دن کو کارخانے چلتے تھے اور نہ ہی رات کو پنکھوں کی ٹھنڈک میسر تھی، سڑکیں اور بجلی ملکی معیشت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ہم نے دن رات کام کرکے ملک میں بجلی کے کارخانے لگائے اور لوڈشیڈنگ کو اللہ حافظ کردیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ2013ءمیں اس ملک میں دہشت گردی کاراج تھا، ہم نے دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور آپریشنز کرکے دہشت گردی کا خاتمہ کردیا۔ آج اگر دہشت گردی سر اٹھا رہی ہے تو پوچھیں اس فیصلے سے جس نے ملک میں انتشار پھیلا دیا۔ ملک میں بے روزگاری میں اضافہ شاہد خاقان عباسی کا قصور نہیں بلکہ اس فیصلے کا قصور ہے جس نے پانامہ کے مقدمے میں اقامے کی بنیاد پر نواز شریف کو نا اہل قرار دیا گیا، قوم کو صرف دس روپے ہی بتادیں جو اس نے کرپشن کی ہو۔ اگر مجھے کرپشن کی بنیاد پر نکالا جاتا تو میں قوم کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتا ۔
نوا زشریف کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے شہروں کے فاصلے مٹا دیئے ہیں، جب فاصلے مٹتے ہیں تو دل قریب آتے ہیں۔ میں نے قوم کے نوجوانوں کی آنکھوں میں چمک دیکھی ، وہ ترقی ، روزگار اور کامیابی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ جب ایک وزیر اعظم کو اقامہ کی بنیاد پر نکالا جاتا ہے تو خوشحالی نہیں بلکہ انتشار پیدا ہوتا ہے۔ آپ اتنا بڑا اور بھرپور ووٹ دے کر وزیر اعظم منتخب کرتے ہیں اور پانچ آدمی کروڑوں کے منڈیٹ کو ایک منٹ میں ختم کردیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں اقامہ اور خیالی تنخواہ کی وجہ سے نکال دیتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کیا آپ کو منظور ہے کہ آپ کے ووٹ کی پرچی کو پھاڑ کر پاﺅں تلے روند دیا جاتا ہے؟ آپ نے اس فیصلے کے خلاف کھڑے ہوکر پاکستان کے بیس کروڑ عوام کو بچانا ہے۔ عوام کے جذبات دیکھ کر نواز شریف کا جی کرتا ہے کہ عوام کے لئے لڑ مر جائے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.